اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے واضح کیا ہے کہ اسرائیلی فوج جنوبی لبنان سے واپس نہیں جائے گی اور وہاں قائم کردہ سیکیورٹی زون کو برقرار رکھا جائے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ شمالی اسرائیل کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے جنوبی لبنان میں فوجی موجودگی ضروری ہے۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق نیتن یاہو نے مغربی کنارے میں روٹ 60 شاہراہ کی توسیع کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل شمالی علاقوں کی سلامتی بحال کرے گا اور اس مقصد کے لیے جنوبی لبنان میں قائم سیکیورٹی زون کو برقرار رکھنا ناگزیر ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اسرائیلی افواج وہاں سے اس وقت تک پیچھے نہیں ہٹیں گی جب تک ضرورت باقی رہے گی۔
اسرائیلی فوج نے بھی جنوبی لبنان میں اپنے زیرِ کنٹرول علاقوں کا تازہ نقشہ جاری کرتے ہوئے اشارہ دیا ہے کہ موجودہ مرحلے پر ان علاقوں سے انخلا کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔
یہ مؤقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے مفاہمتی معاہدے کے بعد تہران نے متعدد مرتبہ کہا ہے کہ نئی جنگ بندی کا اطلاق لبنان پر بھی ہوتا ہے۔ مارچ میں حزب اللہ کی جانب سے شمالی اسرائیل پر حملوں کے بعد اسرائیلی فوج جنوبی لبنان میں داخل ہوئی تھی اور اس کے بعد سے متعدد قصبوں اور دیہات میں کارروائیاں جاری ہیں۔
رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے کئی علاقوں کو خالی کروا کر وہاں موجود عمارتوں کو مسمار کیا ہے، جبکہ حزب اللہ کے جنگجوؤں کے ساتھ جھڑپیں بھی جاری رہی ہیں۔
نیتن یاہو کے قریبی ایک سینئر اسرائیلی اہلکار نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ یروشلم اس معاملے پر واشنگٹن کے ساتھ سخت مذاکرات کر رہا ہے اور اسرائیل جنوبی لبنان سے متعلق اپنی سیکیورٹی ضروریات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
دوسری جانب امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ وزیراعظم نیتن یاہو امریکا اور ایران کے درمیان متوقع حتمی معاہدے کی شرائط پر اثر انداز ہونے کے لیے واشنگٹن میں اسرائیل نواز سینیٹرز اور دائیں بازو کے میڈیا حلقوں کو متحرک کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی ذرائع کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو کو یقین ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان بالآخر ایک معاہدہ ہو جائے گا، تاہم ان کے خیال میں تہران مستقبل میں اس معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں کو مکمل طور پر پورا نہیں کرے گا۔
