تائپے: تائیوان کے وزیر دفاع ویلنگٹن کو نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ تائیوان کا دفاعی تعاون عام تصور سے کہیں زیادہ مضبوط ہے اور امریکی انڈو پیسیفک کمانڈ کے ساتھ فوجی روابط کو مزید گہرا کیا جا رہا ہے تاکہ جزیرے کی دفاعی صلاحیتوں کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔
رائٹرز کے مطابق ایک خصوصی گفتگو میں ویلنگٹن کو نے کہا کہ امریکی انڈو پیسیفک کمانڈ خطے میں امن و استحکام برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے اور تائیوان کو پہلی جزیرہ زنجیر (First Island Chain) کا ایک اہم حصہ تصور کیا جاتا ہے، جو جاپان، تائیوان اور فلپائن تک پھیلی ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ "امریکا کے ساتھ ہمارا تعاون بہت سے لوگوں کے تصور سے کہیں زیادہ قریبی ہے۔ ہم ہر سطح پر امریکی انڈو پیسیفک کمانڈ کے ساتھ فوجی تبادلوں اور تعاون کو فروغ دے رہے ہیں تاکہ اپنی دفاعی اور جنگی صلاحیتوں میں اضافہ کیا جا سکے۔”
وزیر دفاع کے مطابق مشترکہ تربیت، فوجی تبادلوں اور پیشہ ورانہ تعاون کے ذریعے تائیوان کی دفاعی تیاریوں کو مزید مؤثر بنایا جا رہا ہے۔
اگرچہ امریکا اور تائیوان کے درمیان باضابطہ سفارتی تعلقات موجود نہیں، تاہم واشنگٹن تائیوان کا سب سے بڑا بین الاقوامی حمایتی اور اسلحہ فراہم کرنے والا ملک ہے۔ دوسری جانب چین تائیوان کو اپنا حصہ قرار دیتا ہے اور تائی پے اور واشنگٹن کے درمیان بڑھتے ہوئے فوجی تعاون کی مسلسل مخالفت کرتا رہا ہے۔
ویلنگٹن کو نے کہا کہ چین نے حالیہ برسوں میں تائیوان کے گرد اپنی فوجی سرگرمیوں میں اضافہ کیا ہے، جن میں بحری مشقیں، کوسٹ گارڈ کی کارروائیاں اور ممکنہ ناکہ بندی کی مشقیں شامل ہیں۔ اس کے جواب میں تائیوان بھی دفاعی مشقوں اور تیاریوں کو مزید وسعت دے رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر چین تائیوان کا بحری محاصرہ کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اس کے سنگین معاشی اور سیاسی نتائج خود بیجنگ کو بھی بھگتنا پڑ سکتے ہیں، کیونکہ چین کی معیشت عالمی تجارت اور سمندری راستوں پر بہت زیادہ انحصار کرتی ہے۔
وزیر دفاع کے مطابق کسی بھی ممکنہ ناکہ بندی کی صورت میں چین کو سخت بین الاقوامی پابندیوں اور اندرونی سیاسی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جو صدر شی جن پنگ کی حکومت کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج ثابت ہوگا۔
