واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے ساتھ آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے سے متعلق معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے باضابطہ مذاکرات پیر سے شروع ہوں گے۔ یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے ایران پر مجوزہ بڑے فوجی حملے کو مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ "ہم ایران کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں، یہ عمل کل دوپہر سے شروع ہوگا۔ ہم دیکھیں گے کہ کیا مثبت پیش رفت ہوتی ہے۔ اگر معاہدہ ہو جاتا ہے تو بہت سی جانیں بچائی جا سکیں گی اور طاقت کے غیر ضروری استعمال سے بھی گریز ممکن ہوگا۔”
ٹرمپ نے کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ سفارتی حل کے ذریعے کشیدگی ختم ہو اور خطے میں امن کی راہ ہموار ہو۔ تاہم انہوں نے اس بات کی کوئی حتمی مدت نہیں بتائی کہ معاہدہ کب تک مکمل ہو سکے گا۔
امریکی صدر نے ایک بار پھر کہا کہ انہوں نے ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر بمباری کی کارروائی مؤخر کی کیونکہ علاقائی اتحادیوں نے کشیدگی کم کرنے پر زور دیا۔ ان کے مطابق سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر نے امریکہ سے فوجی کارروائی روکنے اور مذاکرات کا موقع دینے کی درخواست کی۔
ٹرمپ کے مطابق ابتدائی مرحلے میں توجہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بحال کرنے پر مرکوز ہوگی، جبکہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق معاملات بعد کے مذاکرات میں زیر بحث آئیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ہرمز سے متعلق مجوزہ سمجھوتہ دراصل اس مفاہمتی یادداشت (MoU) کو دوبارہ فعال کرنے کی کوشش ہے جس پر جون میں اتفاق ہوا تھا۔ اس مفاہمت کے تحت فریقین کو ایران کے جوہری پروگرام پر جامع معاہدے تک پہنچنے کے لیے 60 دن کا وقت دیا گیا تھا، جس میں اب تقریباً 30 دن سے بھی کم مدت باقی رہ گئی ہے۔
دوسری جانب ایرانی حکام اس سے قبل امریکی صدر کے بعض دعوؤں کی تردید کر چکے ہیں اور کہا ہے کہ ہرمز کی بحالی یا نئے معاہدے کے حوالے سے ابھی کوئی حتمی اتفاق نہیں ہوا۔ اس تناظر میں پیر سے شروع ہونے والے مذاکرات کو خطے کی کشیدہ صورتحال میں ایک اہم سفارتی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
