Table of Contents
پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن (پی پی ڈی اے) نے فیول ریلیف اسکیم پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
ایسوسی ایشن نے سبسڈی کی رقم کی ادائیگی کا طریقہ واضح کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
پی پی ڈی اے کے مطابق طریقہ کار واضح ہونے تک ڈیلرز فیول اسکیم کا حصہ نہیں بنیں گے۔
ایسوسی ایشن نے خبردار کیا کہ زبردستی کی گئی تو پیٹرول پمپ اسٹیشنز بند کر دیے جائیں گے۔
پی پی ڈی اے کے چیئرمین ملک خدا بخش نے کراچی میں پریس کانفرنس کی۔
انہوں نے عہدیداروں اور پیٹرولیم ڈیلرز کے ہمراہ حکومتی اسکیم پر مؤقف پیش کیا۔
ڈیلرز سے مشاورت نہ کرنے پر تحفظات
وائس چیئرمین انور کمال نے کہا کہ حکومت نے ڈیلرز سے مشاورت نہیں کی۔
ان کے مطابق حکومت نے فیول ریلیف اسکیم وضع کرلی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایسوسی ایشن عوام کو ریلیف دینے کے اقدام کا خیرمقدم کرتی ہے۔
تاہم، ڈیلرز کو اسکیم کے طریقہ کار پر تحفظات ہیں۔
انور کمال نے کہا کہ سبسڈی کی رقم کی ادائیگی کا طریقہ واضح نہیں کیا گیا۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ عوام کو براہ راست اور آسان طریقے سے ریلیف دیا جائے۔
سبسڈی کون ادا کرے گا؟
چیئرمین ملک خدا بخش نے فیول ریلیف اقدام کو قابل تعریف قرار دیا۔
تاہم، انہوں نے اسکیم کے طریقہ کار پر اعتراض کیا۔
ان کے مطابق حکومت نے ابھی تک یہ واضح نہیں کیا کہ سبسڈی کی رقم کون ادا کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ ڈیلرز کو ادائیگی کے نظام کے بارے میں واضح معلومات دی جائیں۔
ملک خدا بخش نے مطالبہ کیا کہ حکومت سبسڈی کی ادائیگی کا طریقہ فوری واضح کرے۔
صارفین کو براہ راست ریلیف دینے کا مطالبہ
پی پی ڈی اے چیئرمین نے کہا کہ فیول ریلیف کی رقم براہ راست صارفین کو دی جائے۔
انہوں نے فیول سبسڈی کے لیے سابقہ طریقہ کار استعمال کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔
ملک خدا بخش نے کہا کہ ایسوسی ایشن فیول ریلیف اسکیم کے اصولی طور پر حق میں ہے۔
تاہم، انہوں نے موجودہ طریقہ کار پر اعتراضات برقرار رہنے کی بات کی۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اعتراضات دور ہونے تک اسکیم پر عمل درآمد روک دیا جائے۔
پی پی ڈی اے نے واضح کیا کہ ادائیگی کے طریقہ کار کی وضاحت کے بغیر ڈیلرز اسکیم میں شامل نہیں ہوں گے۔
ایسوسی ایشن نے زبردستی کی صورت میں فیول اسٹیشنز بند کرنے کا انتباہ بھی دیا۔
