حکومت نے ملک میں پاسپورٹ کے اجراء کے نظام کو مکمل طور پر ڈیجیٹل اور ای-پاسپورٹ پر منتقل کرنے کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے، جس کا مقصد دستاویزات میں جعلسازی، فراڈ اور غیر قانونی طریقوں کا خاتمہ کرنا ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ کی زیر صدارت پاسپورٹ اینڈ امیگریشن ہیڈکوارٹرز میں اہم اجلاس ہوا جس میں پاسپورٹ نظام میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کی منظوری دی گئی۔ اجلاس میں بریفنگ کے دوران ڈی جی پاسپورٹس اینڈ امیگریشن محمد علی رندھاوا نے بتایا کہ بیرون ملک اور اندرون ملک پاسپورٹ کی ہوم ڈلیوری کے لیے ابتدائی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں اور یہ سہولت جلد شہریوں کو فراہم کر دی جائے گی۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ شہریوں کو پاسپورٹ ان کی دہلیز پر پہنچانے کا نظام جلد فعال کیا جائے گا، جس سے نہ صرف وقت کی بچت ہوگی بلکہ شہریوں کو دفاتر کے چکر بھی نہیں لگانے پڑیں گے۔
مزید برآں یکم جولائی سے ملک بھر کے پاسپورٹ دفاتر میں کیش لیس نظام نافذ کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے، جبکہ آن لائن درخواستوں کو مکمل طور پر پاک آئی ڈی پلیٹ فارم پر منتقل کیا جائے گا تاکہ نظام کو مزید شفاف اور مؤثر بنایا جا سکے۔
وزیر داخلہ نے بزنس پاسپورٹ پالیسی کو ایف بی آر کی مشاورت سے جلد حتمی شکل دینے کی ہدایت بھی جاری کی، تاکہ کاروباری طبقے کے لیے سفری سہولتوں کو بہتر اور تیز تر بنایا جا سکے۔
حکومتی حکام کے مطابق یہ اصلاحات پاسپورٹ نظام کو جدید، محفوظ اور عالمی معیار کے مطابق بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہیں۔
