Table of Contents
تہران / مسقط: مشرق وسطیٰ کی اہم سمندری گزرگاہ آبنائے ہرمز سے متعلق ایران اور عمان کے درمیان جاری مذاکرات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ دونوں ممالک تجارتی جہازوں کے لیے مجوزہ محفوظ بحری راستے کے جغرافیائی نقاط پر متفق ہو گئے ہیں۔
ایرانی حکام کے مطابق دونوں ممالک مشترکہ اعلامیے کو حتمی شکل دے رہے ہیں، جسے جلد جاری کیے جانے کا امکان ہے۔
محفوظ بحری راستے پر اتفاق
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ محفوظ شپنگ روٹ کے بنیادی جغرافیائی نکات پر عمان کے ساتھ اتفاق رائے ہو چکا ہے۔
تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر کسی تیسرے فریق، خصوصاً امریکا یا اسرائیل، کی جانب سے مداخلت ہوئی تو معاہدہ متاثر ہو سکتا ہے۔
ایران کا مؤقف کیا ہے؟
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ محفوظ بحری راستے پر اتفاق اہم پیش رفت ضرور ہے، لیکن اس سے آبنائے ہرمز میں مکمل سکیورٹی کی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔
انہوں نے کہا کہ خطے کا امن اور سمندری سلامتی وسیع تر سیاسی اور عسکری صورتحال سے بھی وابستہ ہے۔
مجوزہ معاہدے میں کیا شامل ہو سکتا ہے؟
بین الاقوامی ذرائع کے مطابق زیر غور معاہدے میں جہازوں کی آمد اور روانگی کے لیے الگ الگ بحری راستے تجویز کیے گئے ہیں۔
ممکنہ منصوبے کے تحت:
- خلیج فارس میں داخل ہونے والے جہاز ایرانی نگرانی والے راستے سے گزریں گے۔
- خلیج فارس سے باہر جانے والے جہاز عمان کے زیر انتظام راستہ استعمال کریں گے۔
اس انتظام کا مقصد بحری ٹریفک کو بہتر بنانا اور تصادم یا کشیدگی کے خدشات کم کرنا ہے۔
کن نکات پر اختلاف برقرار ہے؟
ذرائع کے مطابق ایران بحری گزرگاہ استعمال کرنے والے جہازوں سے سروس فیس وصول کرنا چاہتا ہے۔
دوسری جانب عمان نسبتاً کم فیس کی تجویز دے رہا ہے، جبکہ امریکا لازمی فیس یا ایران کو خصوصی اختیارات دینے کی مخالفت کر رہا ہے۔
یہی نکات اب بھی مذاکرات میں مکمل اتفاق کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔
امریکا، عمان اور ایران کے درمیان سفارتی رابطے
اگرچہ ایران کا کہنا ہے کہ اس کی براہ راست بات چیت صرف عمان سے ہو رہی ہے، تاہم امریکی حکام کے مطابق عمان کی ثالثی میں واشنگٹن اور تہران کے درمیان بالواسطہ رابطے بھی جاری ہیں۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ مذاکرات میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے، تاہم ابھی حتمی معاہدہ طے نہیں پایا۔
اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی ایران کے ساتھ مذاکرات کو حوصلہ افزا قرار دے چکے ہیں۔ ان کے مطابق مجوزہ معاہدے میں آبنائے ہرمز کی بحالی کے ساتھ ایران کے جوہری پروگرام پر بھی بات چیت شامل ہے۔
آبنائے ہرمز کیوں اہم ہے؟
آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے۔
یہ راستہ خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحرِ عرب سے ملاتا ہے۔ سعودی عرب، عراق، کویت، قطر، بحرین اور متحدہ عرب امارات کی تیل اور قدرتی گیس کی بڑی مقدار اسی راستے سے عالمی منڈیوں تک پہنچتی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی مکمل بحالی عالمی توانائی کی منڈی، تیل کی قیمتوں اور بین الاقوامی تجارت پر مثبت اثر ڈال سکتی ہے۔
