تہران: ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش کا معاملہ امریکا کی جانب سے کیے گئے وعدوں اور مفاہمتی یادداشت (MoU) کی مبینہ خلاف ورزی سے جڑا ہوا ہے۔
ایک انٹرویو میں اسماعیل بقائی نے کہا کہ امریکا نے مفاہمتی یادداشت کے تحت بحری آمد و رفت کی بحالی کی اجازت نہیں دی اور معاہدے کی مدت ختم ہونے سے پہلے ہی ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی، جس کے باعث موجودہ صورتحال پیدا ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران اس وقت عمان کے ساتھ متبادل بحری راستے کے حوالے سے مذاکرات کر رہا ہے، تاہم آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا معاملہ ان مذاکرات سے الگ ہے اور اس پر علیحدہ سفارتی سطح پر بات چیت کی جا رہی ہے۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے مزید کہا کہ برطانیہ، بلغاریہ اور یوکرین نے ایران کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ جاری تنازع میں براہِ راست شامل نہیں ہوں گے۔
دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے ترجمان حسن قشقاوی نے کہا ہے کہ بین الاقوامی ثالث فریقین کے درمیان سابقہ مفاہمتی یادداشت کو بحال کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔
حسن قشقاوی کے مطابق ثالث اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں کہ موجودہ مذاکرات میں آبنائے ہرمز بنیادی اور اہم ترین مسائل میں شامل ہے، اس لیے اس معاملے کا حل کسی بھی ممکنہ سفارتی پیش رفت میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔
ایرانی حکام کے حالیہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور دونوں ممالک کے درمیان ممکنہ مذاکرات اور خطے میں بحری سلامتی کے حوالے سے سفارتی سرگرمیاں جاری ہیں۔
