Table of Contents
لاہور: چیئرمین پاکستان علماء کونسل اور سیکرٹری جنرل انٹرنیشنل تعظیمِ حرمین شریفین کونسل حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے امن، مذہبی ہم آہنگی اور حرمین شریفین کے دفاع کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پوری انسانیت کا مستقبل امن سے وابستہ ہے۔ پاکستان میں بھی امن اور مذہبی ہم آہنگی کے لیے عملی اقدامات ضروری ہیں۔
حافظ طاہر اشرفی نے یہ بات عالمی یومِ امن کے موقع پر لاہور میں منعقدہ بین المذاہب امن کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
کانفرنس کا اہتمام لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی قائمہ کمیٹی برائے بین المسالک تعلقات نے کیا تھا۔
گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی سمیت مختلف مکاتب فکر کے اکابرین نے کانفرنس میں شرکت کی۔
امن کے لیے مذہبی قیادت کا کردار اہم ہے
حافظ طاہر اشرفی نے کہا کہ امن ایک لفظ ہے، مگر اس کے اندر پوری کائنات موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر ملک میں امن ہوگا تو ترقی ہوگی۔ اس سے سرمایہ کاری بھی آئے گی۔
ان کے مطابق مذہبی قیادت امن کے قیام میں بہت بڑی طاقت ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان مختلف مذاہب کا ملک ہے۔ تمام شہریوں کے حقوق کا تحفظ ضروری ہے۔
حافظ طاہر اشرفی نے کہا کہ جو غیر مسلم پاکستان کے ساتھ کھڑے ہوئے، وہ بھی امن چاہتے تھے۔
انہوں نے نبی کریم ﷺ کی تعلیمات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ غیر مسلم کو تکلیف پہنچانے کی حمایت نہیں کی جا سکتی۔
پاکستان کے مسائل خود حل کرنا ہوں گے
حافظ طاہر اشرفی نے کہا کہ پاکستان ہمارا ملک ہے۔ ہمیں اپنے مسائل خود حل کرنا ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ صرف اپنا چہرہ سیاہ کرنے یا خود کو تھپڑ مارنے سے مسائل حل نہیں ہوں گے۔
ان کے مطابق ہر مسئلے کے حل کے لیے عملی کوشش ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان کی کوشش رہتی ہے کہ کسی کا مسئلہ ہو تو اس کے حل کے لیے کردار ادا کیا جائے۔
حافظ طاہر اشرفی نے کہا کہ پاکستان جتنا مسلمانوں کا ہے، اتنا ہی بشپ حضرات کا بھی ہے۔
انہوں نے جبری طور پر کسی کو مسلمان بنانے کی مخالفت کی۔
ان کے مطابق اسلام معیار پر یقین رکھتا ہے، صرف تعداد بڑھانے پر نہیں۔
جبری شادی کی مخالفت
حافظ طاہر اشرفی نے جبری شادی کے معاملے پر بھی بات کی۔
انہوں نے کہا کہ اسلام جبری شادی کی اجازت نہیں دیتا۔
ان کے مطابق اپنی بیٹی کی بھی جبری شادی نہیں کی جا سکتی۔
انہوں نے نبی کریم ﷺ کی جانب سے سیدہ فاطمہؓ کے نکاح کے موقع پر رضامندی لینے کا حوالہ دیا۔
مذہبی ہم آہنگی قومی سلامتی سے جڑی ہے
حافظ طاہر اشرفی نے کہا کہ امن کی راہ میں چھوٹی باتوں کو رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔
انہوں نے فتنہ خوارج کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بے گناہ لوگوں کو قتل کرنے والا دہشت گرد ہے۔
انہوں نے کہا کہ غیر مسلموں کو قومی پیغام امن کمیٹی میں نمائندگی دی گئی ہے۔
حافظ طاہر اشرفی کے مطابق معاشرے میں امن کے لیے تمام طبقات کو ساتھ لے کر چلنا ضروری ہے۔
توہین مذہب کے قانون پر طاہر اشرفی کا مؤقف
حافظ طاہر اشرفی نے توہین مذہب اور توہین رسالت کے قوانین کے بارے میں بھی اظہار خیال کیا۔
انہوں نے کہا کہ اگر کہیں ان قوانین کا غلط استعمال ہو رہا ہے تو اس کی نشاندہی کی جائے۔
انہوں نے کہا کہ ایسے کیسز سامنے لائے جائیں جہاں قانون کے غلط استعمال کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔
حافظ طاہر اشرفی نے دعویٰ کیا کہ اس قانون کی وجہ سے سینکڑوں جانیں بچائی گئی ہیں۔
انہوں نے اسلام آباد میں رمشا نامی ذہنی معذور بچی کے واقعے کا حوالہ بھی دیا۔
ان کے مطابق اسے جلانے کی کوشش کی جا رہی تھی۔ تاہم، قانون کے باعث اس کی جان بچی۔
انہوں نے کہا کہ ان کے علم میں ایسے 25 سے 30 واقعات ہیں۔ ان میں لوگوں کی جانیں بچائی گئیں۔
حافظ طاہر اشرفی نے تاہم کہا کہ کھلے عام توہین مذہب کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
قصور واقعے کا بھی حوالہ
حافظ طاہر اشرفی نے قصور میں میاں بیوی کو جلانے کے واقعے کا ذکر بھی کیا۔
انہوں نے کہا کہ اس واقعے میں ذمہ دار افراد کے آزاد ہونے پر سوال اٹھنا چاہیے۔
ان کے مطابق اس معاملے میں قانونی پیروی پر بھی توجہ دینی چاہیے تھی۔
انہوں نے قصور کے واقعے کو پاکستان، مسلمانوں اور اسلام کے نام پر دھبہ قرار دیا۔
حافظ طاہر اشرفی نے کہا کہ مجرموں کو بری کرنے والا جج بھی جواب دہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں متفقہ فیصلہ تھا کہ مجرمان کی کوئی سفارش نہیں کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ دوسروں پر تنقید کے ساتھ ہمیں اپنی طرف بھی دیکھنا چاہیے۔
حافظ طاہر اشرفی نے زور دیا کہ پاکستان کو اپنا گھر خود ٹھیک کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ کوئی دوسرا آکر ہمارے مسائل حل نہیں کرے گا۔
فلسطین میں امن کی ضرورت
حافظ طاہر اشرفی نے فلسطین کی صورتحال کا بھی ذکر کیا۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل فلسطین میں کسی کو مارتے ہوئے یہ نہیں پوچھتا کہ وہ کس مذہب سے تعلق رکھتا ہے۔
ان کے مطابق بم جب گرتا ہے تو وہ مذہب نہیں پوچھتا۔
انہوں نے کہا کہ دنیا کو امن کے لیے سنجیدہ کوششیں کرنا ہوں گی۔
حافظ طاہر اشرفی نے کہا کہ نصیحت کرنا دین نے سکھایا ہے۔ یہ ہماری ذمہ داری بھی ہے۔
حرمین شریفین کے دفاع کا عہد
حافظ طاہر اشرفی نے حرمین شریفین کے حوالے سے بھی اہم پیغام دیا۔
انہوں نے کہا کہ ہمارا پہلا عہد اللہ رب العزت کے ساتھ ہے۔
ان کے مطابق ارضِ حرمین شریفین، مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی حرمت، سلامتی، استحکام اور دفاع کے لیے ہر ممکن کردار ادا کیا جائے گا۔
انہوں نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون اور باہمی عہد کا بھی ذکر کیا۔
حافظ طاہر اشرفی نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کی قیادت مسلسل رابطے اور مشاورت میں ہے۔
ان کے مطابق حرمین شریفین اور سعودی عرب کے امن، سلامتی اور استحکام کے لیے جو اقدام ضروری ہوگا، دونوں ممالک کی قیادت باہمی مشاورت سے کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ کسی کو فکرمند یا پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔
حرمین شریفین ہماری ریڈ لائن ہیں
حافظ طاہر اشرفی نے کہا کہ ہندوستان، اسرائیل یا عالم اسلام کی کوئی بھی مخالف قوت بے بنیاد پروپیگنڈے سے اتحاد کمزور نہیں کر سکتی۔
ان کے مطابق پاکستان، سعودی عرب اور امت مسلمہ کے اتحاد و یکجہتی کو کمزور کرنے کی کوششیں کامیاب نہیں ہوں گی۔
انہوں نے کہا کہ حرمین شریفین کی حرمت اور سلامتی ہماری ریڈ لائن ہے۔
حافظ طاہر اشرفی نے واضح کیا کہ اس معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
یومِ مذمت منانے کا اعلان
حافظ طاہر اشرفی نے کہا کہ عالم اسلام بالخصوص اور پاکستان بالخصوص ’’یومِ مذمت‘‘ منائے گا۔
انہوں نے کہا کہ خطبات جمعہ میں حوثیوں کی جانب سے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کو نشانہ بنانے کی کوششوں کی مذمت کی جائے گی۔
ان کے مطابق خطبات میں ارضِ حرمین شریفین کی سلامتی اور دفاع کے لیے امت مسلمہ کی یکجہتی کا اظہار بھی ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ حرمین شریفین کی حفاظت اور سلامتی کے لیے پاکستان اور امت مسلمہ کا عزم واضح ہے۔
فیصل کریم کنڈی کا مذہبی ہم آہنگی پر زور
گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے بھی کانفرنس سے خطاب کیا۔
انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی امن کانفرنس میں شرکت ان کے لیے باعث فخر ہے۔
انہوں نے معاشرے میں امن کے لیے علماء کرام کے کردار کو اہم قرار دیا۔
فیصل کریم کنڈی نے قائداعظم محمد علی جناح کے 11 ستمبر کے خطاب کا حوالہ دیا۔
انہوں نے کہا کہ قائداعظم نے پہلی قانون ساز اسمبلی سے خطاب میں اقلیتوں کی آزادی کی بات کی تھی۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ پاکستان کو درپیش مشکلات کے حل کے لیے قومی یکجہتی ضروری ہے۔
انہوں نے مذہبی ہم آہنگی کو قومی سلامتی کا مسئلہ قرار دیا۔
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ امن ایسا ماحول ہے جہاں انسان بلاخوف زندگی گزار سکے۔
انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کو ایسا ملک بنانا ہوگا جہاں مذہبی ہم آہنگی کو اپنی طاقت سمجھا جائے۔
