وفاقی وزیر مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی سردار محمد یوسف نے کہا ہے کہ پاکستان نے حج 2026 کے لیے مختص ایک لاکھ 80 ہزار عازمین کا 100 فیصد کوٹہ کامیابی کے ساتھ استعمال کیا ہے، جبکہ بہترین انتظامات کی بدولت سعودی حکومت کی جانب سے پاکستان کو 4 اہم ایوارڈز بھی دیے گئے ہیں۔
مدینہ منورہ میں پاکستان حج مشن کے مرکزی دفتر (MCO) کے دورے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ وزارت مذہبی امور اور پرائیویٹ سیکٹر کی مشترکہ کوششوں کے نتیجے میں عازمین حج کو مثالی سہولیات فراہم کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی حج انتظامیہ کی کارکردگی کو سعودی حکام نے بھی سراہا ہے۔
دورے کے دوران ڈائریکٹر مدینہ زاہد سہیل نے وفاقی وزیر کو مرکزی کلینک، شکایات سیل، ارلی ڈیپارچر سیل، لاسٹ اینڈ فاؤنڈ سیل، ڈیجیٹل انڈکشن سیل اور آئی ٹی سیل سمیت مختلف شعبہ جات کا تفصیلی معائنہ کرایا۔ اس موقع پر وفاقی وزیر کو مدینہ منورہ میں پری حج اور پوسٹ حج انتظامات پر مکمل بریفنگ بھی دی گئی۔
وفاقی وزیر کے مطابق پری حج آپریشن کے دوران 14 اپریل سے شروع ہونے والے پہلے مرحلے میں 46 ہزار 945 حجاج مدینہ منورہ پہنچے، جہاں جدید ڈیجیٹل مانیٹرنگ کے ذریعے 100 فیصد حجاج کو ریاض الجنہ کی زیارت کرائی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ تمام عازمین کو مسجد نبوی کے قریب “مرکزیہ” کے ہوٹلوں میں ٹھہرایا گیا تاکہ بزرگ اور بیمار حجاج کو سہولت حاصل ہو۔
سردار محمد یوسف نے کہا کہ انہیں حج انتظامات پر حجاج کی جانب سے بھی مثبت ردعمل ملا ہے، جبکہ مدینہ منورہ میں تعینات ٹیم نے غیر معمولی محنت کی ہے۔ انہوں نے ٹیم کے لیے تعریفی اسناد دینے کا بھی اعلان کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں دی جانے والی حج ٹریننگ کے باعث عازمین کو سعودی عرب میں بہترین رہنمائی ملی اور مجموعی طور پر نظم و ضبط برقرار رہا۔
پوسٹ حج مرحلے کے حوالے سے وفاقی وزیر نے بتایا کہ مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ آنے والے 72 ہزار 271 حجاج کے دوسرے مرحلے کا آغاز ہو چکا ہے، جن میں سے اب تک 5 ہزار سے زائد عازمین مدینہ پہنچ چکے ہیں۔ ان کی واپسی کے شیڈول کو بھی حتمی شکل دے دی گئی ہے تاکہ انہیں کم سے کم وقت میں آرام دہ سفر کی سہولت فراہم کی جا سکے۔
