اسلام آباد: پاکستان اور کینیڈا نے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے، تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ، توانائی، زراعت، معدنیات، موسمیاتی تبدیلی اور انسداد دہشت گردی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے مشترکہ اعلامیہ جاری کر دیا۔
دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند کے درمیان ہونے والی ملاقات کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے میں دونوں ممالک نے تجارت، سرمایہ کاری اور عوامی روابط کو وسعت دینے پر اتفاق کیا۔
اعلامیے کے مطابق کینیڈا نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت تک پہنچنے میں پاکستان کے سفارتی اور ثالثی کردار کو سراہا، جبکہ دونوں ممالک نے اس مفاہمتی یادداشت پر مؤثر عملدرآمد اور پائیدار جنگ بندی کی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔
پاکستان اور کینیڈا نے فارن انویسٹمنٹ پروٹیکشن اینڈ پروموشن ایگریمنٹ (FIPPA) پر مذاکرات جلد مکمل کرنے کی ضرورت پر زور دیا، تاکہ سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ اور دوطرفہ سرمایہ کاری کو مزید فروغ دیا جا سکے۔
مشترکہ اعلامیے میں پاکستان۔کینیڈا مشترکہ ورکنگ گروپ برائے تجارت و سرمایہ کاری کو دوبارہ فعال کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا، تاکہ اقتصادی تعاون کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔
دونوں ممالک نے صاف توانائی، کان کنی، بنیادی ڈھانچے، زراعت، جدید ٹیکنالوجی اور ماحولیات کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا۔ اس موقع پر پاکستان میں کینیڈین کمپنی کے 240 میگاواٹ دھابیجی ہائبرڈ ونڈ اینڈ سولر منصوبے کو اہم سرمایہ کاری قرار دیا گیا۔
اعلامیے میں زراعت کے شعبے میں تعاون کو وسعت دینے پر بھی اتفاق کیا گیا، جس کے تحت کینولا، دالوں، سویابین، چاول، مصالحہ جات اور پھلوں کی دوطرفہ تجارت بڑھانے کی کوششیں تیز کی جائیں گی۔ اسی سلسلے میں کینیڈین کینولا کی درآمد کے لیے نئے فائٹو سینیٹری پروٹوکول پر بھی دستخط کیے گئے۔
پاکستان اور کینیڈا نے معدنیات کے شعبے میں تجارت اور سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنے، جبکہ اقوام متحدہ اور انٹرپول کے پلیٹ فارمز کے ذریعے انسداد دہشت گردی کے شعبے میں تعاون جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا۔
کینیڈا نے پاکستان میں تعلیم، موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے اور صحت کے شعبوں میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا، جبکہ دونوں ممالک نے اعلیٰ سطح کے سفارتی روابط برقرار رکھنے اور دوطرفہ تعاون کا سالانہ جائزہ لینے پر بھی اتفاق کیا۔

