Table of Contents
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے انتہائی ہنر مند غیر ملکی کارکنوں کے لیے نئے H-1B ویزوں پر 103,265 ڈالر فیس عائد کرنے کی تجویز پیش کردی ہے۔
رائٹرز کے مطابق امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی (DHS) نے پیر کو مجوزہ ضابطہ جاری کیا۔ یہ ضابطہ منگل کو فیڈرل رجسٹر میں باضابطہ طور پر شائع ہوگا۔
مجوزہ ضابطے کے بعد 30 روزہ عوامی تبصرے کا عمل شروع ہوگا۔ حکومت اس ضابطے کو رواں سال کے اختتام تک حتمی شکل دے سکتی ہے۔
H-1B ویزا فیس میں بڑا اضافہ
مجوزہ 103,265 ڈالر فیس H-1B ویزا پروگرام کے موجودہ اخراجات کے مقابلے میں بہت بڑا اضافہ ہے۔ عام طور پر اس ویزے کے لیے مختلف فیس ملا کر تقریباً 2 ہزار سے 5 ہزار ڈالر تک خرچ آتا ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ نے گزشتہ سال بھی نئے H-1B ویزوں پر ایک لاکھ ڈالر کی فیس عائد کی تھی۔ تاہم جون میں ایک وفاقی جج نے اس فیس کو غیر قانونی قرار دے دیا تھا۔
عدالت نے انتظامیہ کو فیس وصول کرنے سے روک دیا تھا۔ اس فیصلے کے خلاف اپیل کا عمل بھی جاری ہے۔
فیس مستقل کرنے کی کوشش
ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے گزشتہ سال عائد کی گئی فیس کی مدت ستمبر میں ختم ہونے والی ہے۔ اس کے بعد فیس کو مستقل بنانے کے لیے محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی نے نیا ضابطہ تجویز کیا ہے۔
مجوزہ ضابطے کے تحت نئی فیس کا اطلاق نئے H-1B ویزوں پر ہوگا۔ یہ ویزا امریکا میں مخصوص شعبوں کے لیے غیر ملکی ماہر کارکنوں کی خدمات حاصل کرنے کا راستہ فراہم کرتا ہے۔
H-1B پروگرام کیا ہے؟
H-1B پروگرام کے تحت امریکی کمپنیاں خصوصی مہارت رکھنے والے غیر ملکی کارکنوں کو ملازمت دے سکتی ہیں۔
پروگرام کے تحت ہر سال 65 ہزار ویزے مختص کیے جاتے ہیں۔ مزید 20 ہزار ویزے اعلیٰ تعلیمی ڈگری رکھنے والے افراد کے لیے مختص ہیں۔
یہ ویزے عام طور پر تین سے چھ سال تک جاری رہ سکتے ہیں۔ ٹیکنالوجی، تعلیم اور تحقیق سمیت کئی شعبوں کے ادارے اس پروگرام پر انحصار کرتے ہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ اور کاروباری حلقوں کا مؤقف مختلف
ٹرمپ اور H-1B پروگرام کے دیگر ناقدین کا مؤقف ہے کہ بعض کمپنیاں اس پروگرام کا غلط استعمال کرتی ہیں۔ ان کے مطابق کمپنیاں امریکی کارکنوں کی جگہ کم اجرت پر غیر ملکی ملازمین کو بھرتی کرتی ہیں۔
دوسری جانب کاروباری تنظیمیں اور متعدد کمپنیاں H-1B پروگرام کو ضروری قرار دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بعض شعبوں میں مطلوبہ مہارت رکھنے والے امریکی کارکنوں کی تعداد کم ہے۔
کاروباری حلقوں کے مطابق H-1B پروگرام امریکی کمپنیوں کو عالمی سطح کے ہنر مند افراد بھرتی کرنے میں مدد دیتا ہے۔
فیس کے خلاف قانونی جنگ
ایک لاکھ ڈالر سے زائد فیس کو امریکی چیمبر آف کامرس، ڈیموکریٹک پارٹی کے زیر انتظام ریاستوں، یونینوں اور بعض آجروں نے عدالت میں چیلنج کر رکھا ہے۔
درخواست گزاروں کا مؤقف ہے کہ صدر کو بعض غیر ملکی شہریوں کے داخلے پر پابندی لگانے کا اختیار حاصل ہے۔ تاہم یہ اختیار H-1B پروگرام کے تحت مقررہ قانون کو ختم کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
مقدمات میں یہ مؤقف بھی اختیار کیا گیا ہے کہ محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کو کانگریس کی منظوری کے بغیر امریکا کے لیے آمدنی پیدا کرنے والی فیس عائد کرنے کا اختیار نہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ اس مؤقف کو مسترد کرتی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ فیس روایتی ٹیکس نہیں ہے۔ انتظامیہ نے صدر کے امیگریشن اختیارات کا بھی دفاع کیا ہے۔
H-1B ویزوں کی طلب میں کمی
اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال امریکی آجروں نے تقریباً 344,000 H-1B ویزوں کے لیے اندراج کیا۔ یہ تعداد 2024 کے مقابلے میں 25 فیصد سے زیادہ تھی۔
تاہم 2023 میں H-1B ویزوں کے لیے تقریباً 794,000 درخواستیں موصول ہوئی تھیں۔ اس طرح گزشتہ سال کی طلب 2023 کے مقابلے میں نمایاں کم رہی۔
ٹرمپ انتظامیہ نے H-1B درخواست دہندگان کی جانچ مزید سخت کرنے کے اقدامات بھی کیے ہیں۔ حکومت نے ویزا انتخاب کا ایک نیا طریقہ تجویز کیا ہے، جس میں زیادہ مہارت اور زیادہ تنخواہ حاصل کرنے والے کارکنوں کو ترجیح دینے کی بات کی گئی ہے۔
نئی فیس سے کمپنیوں پر مالی دباؤ بڑھنے کا امکان
مجوزہ فیس حتمی شکل اختیار کرتی ہے تو امریکی کمپنیوں کے لیے غیر ملکی ماہرین کی خدمات حاصل کرنا مزید مہنگا ہوجائے گا۔
خصوصاً ٹیکنالوجی، تحقیق اور دیگر ہنر مند شعبوں میں کام کرنے والے اداروں پر اس کا نمایاں اثر پڑ سکتا ہے۔ تاہم فیس کا حتمی نفاذ عدالتی فیصلوں اور عوامی تبصروں کے بعد واضح ہوگا۔
