Table of Contents
تہران: ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کی۔ ملاقات میں علاقائی امن اور سلامتی پر بات چیت ہوئی۔
پیزشکیان نے امریکی پالیسی پر بھی اپنے مؤقف کا اظہار کیا۔ انہوں نے واشنگٹن سے اپنا رویہ تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا۔
امریکی دباؤ پر پیزشکیان کا مؤقف
ایرانی صدر نے کہا کہ امریکا کو ایران کے ساتھ اپنا لہجہ بدلنا چاہیے۔ انہوں نے دباؤ اور دھمکیوں سے گریز پر زور دیا۔
پیزشکیان کے مطابق جبر سے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ اس سے اسلام آباد معاہدے پر عمل درآمد مشکل ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکا کو اپنے وعدے پورے کرنے چاہئیں۔ ایران اپنے جائز حقوق کے تحفظ پر قائم ہے۔
پاکستان کی ثالثی کو سراہا
پیزشکیان نے پاکستان کی سفارتی کوششوں کی تعریف کی۔ انہوں نے علاقائی امن کے لیے اسلام آباد کے کردار کو اہم قرار دیا۔
ایرانی صدر نے امید ظاہر کی کہ تعاون جاری رہے گا۔ اس سے اسلام آباد معاہدے کے اہداف حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے پاکستان کی ثالثی پر بھی شکریہ ادا کیا۔ پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے رابطے کر رہا ہے۔
ایرانی قوم کے اتحاد کا ذکر
پیزشکیان نے ایرانی قوم کے اتحاد کو اہم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اتحاد سے دباؤ کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔
ان کے مطابق ایران ہر قسم کے خطرات کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہے۔ ایرانی صدر نے قومی یکجہتی کو ملک کی طاقت قرار دیا۔
مسلم ممالک کے تعاون پر زور
ایرانی صدر نے مسلم ممالک کے درمیان تعاون بڑھانے پر زور دیا۔ انہوں نے پائیدار علاقائی امن کو ضروری قرار دیا۔
پیزشکیان نے کہا کہ ایران اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعاون چاہتا ہے۔ یہ تعاون مختلف شعبوں میں بڑھایا جا سکتا ہے۔
انہوں نے اقتصادی اور سیاسی روابط کی اہمیت بھی اجاگر کی۔ سکیورٹی تعاون کو بھی ضروری قرار دیا۔
عاصم منیر کا سفارتی عمل پر زور
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے پیزشکیان کی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے علاقائی امن کے لیے تعاون جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا۔
عاصم منیر نے سفارتی عمل کو اہم قرار دیا۔ انہوں نے جامع معاہدے کے لیے محتاط مذاکرات پر زور دیا۔
پاکستانی آرمی چیف نے دونوں ممالک کے تعلقات کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے پاک ایران تاریخی روابط کو اہم اثاثہ قرار دیا۔
پاکستان ثالثی کا کردار جاری رکھے گا
عاصم منیر نے پاکستان کے سہولت کار کردار پر بات کی۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔
پاکستان علاقائی کشیدگی کے خاتمے کا خواہاں ہے۔ اسلام آباد پائیدار اور جامع حل کی حمایت کرتا ہے۔
عاصم منیر نے کہا کہ بحران ختم ہونے کے بعد نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ ان میں تعمیر نو اور علاقائی ترقی شامل ہیں۔
