Table of Contents
واشنگٹن، امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف نے روس کا دورہ کیا ہے۔ وہ ماسکو میں روسی حکام سے ملاقاتیں کریں گے۔
رائٹرز کے مطابق امریکی میڈیا اداروں CBS نیوز اور Axios نے نامعلوم ذرائع کے حوالے سے ریٹکلف کے ماسکو پہنچنے کی اطلاع دی ہے۔
رپورٹس میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ سی آئی اے چیف روس میں کن حکام سے ملاقات کریں گے۔ ملاقاتوں کے ایجنڈے سے متعلق بھی تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔
روس میں کسی امریکی جاسوس چیف کا پہلا دورہ
جان ریٹکلف کا یہ دورہ اہم سمجھا جا رہا ہے۔ ان کے پیش رو ولیم برنز نے نومبر 2021 میں روس کا دورہ کیا تھا۔
برنز نے اس وقت روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات کی تھی۔ اس ملاقات کے تقریباً تین ماہ بعد روس نے یوکرین کے خلاف جنگ شروع کردی تھی۔
سی آئی اے نے ریٹکلف کے دورے سے متعلق تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔ کریملن نے بھی فوری طور پر میڈیا کی جانب سے پوچھے گئے سوالات کا جواب نہیں دیا۔
روس اور ایران کے قریبی تعلقات
ریٹکلف کا دورہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب امریکا روس اور ایران کے تعلقات پر بھی نظر رکھے ہوئے ہے۔
روس اور ایران کے درمیان قریبی اسٹریٹجک شراکت داری قائم ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان فوجی، اقتصادی اور سفارتی تعاون موجود ہے۔
روس کا امریکا میں اس وقت کوئی سفیر بھی موجود نہیں ہے۔
ایران اور یوکرین جنگ کا پس منظر
ایران نے یوکرین جنگ کے دوران روس کو ڈرونز فراہم کیے تھے۔ یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے مارچ میں روس پر ایران کو ڈرونز کی ٹیکنالوجی فراہم کرنے کا الزام بھی عائد کیا تھا۔
رائٹرز کے مطابق یوکرینی انٹیلی جنس کی ایک تشخیص میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا تھا کہ روس نے ایران کو مشرق وسطیٰ میں امریکی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے سیٹلائٹ تصاویر فراہم کرنے میں مدد کی۔
ماسکو نے ایسے الزامات کی تردید کی ہے۔ روس کا کہنا ہے کہ وہ امریکا اور ایران کے درمیان تنازع کے حل میں مدد دینے کے لیے تیار ہے۔
امریکا کا ایران پر اقتصادی دباؤ
دوسری جانب امریکا نے پیر کو مختلف ممالک کو ایران کے ساتھ کاروباری تعلقات ختم کرنے کی تنبیہ کی ہے۔
امریکی اقدام کا مقصد تہران پر اقتصادی دباؤ بڑھانا بتایا گیا ہے۔ واشنگٹن نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے ساتھ کاروبار جاری رکھنے والے ممالک کو ثانوی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ریٹکلف کے ماسکو دورے کی مزید تفصیلات سامنے آنے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان بات چیت کے ممکنہ ایجنڈے پر مزید وضاحت متوقع ہے۔
