Table of Contents
پورٹ او پرنس: ہیتی کے دارالحکومت پورٹ او پرنس کے قریب مسلح گینگ کے حملے میں تقریباً 40 افراد ہلاک ہوگئے۔
حملہ آوروں نے بے گھر افراد کے ایک کیمپ کو نشانہ بنایا۔ بڑی تعداد میں متاثرہ افراد نے چرچ میں پناہ لے رکھی تھی۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق حملہ اتوار کی رات کینسکوف کے پہاڑی علاقے میں ہوا۔
علاقے کے میئر ماسیلون ژاں نے تقریباً 40 ہلاکتوں کی تصدیق کی۔ انہوں نے کہا کہ تلاش کا عمل جاری ہے۔ بعض افراد تاحال لاپتا ہیں۔
چرچ میں پناہ لینے والے افراد نشانہ بن گئے
میئر نے واقعے کو ’’خوف کی رات‘‘ قرار دیا۔ ان کے مطابق مسلح افراد نے ایسے لوگوں کو بھی نشانہ بنایا جو گینگ تشدد سے فرار ہوئے تھے۔
حکام کے مطابق حملہ آوروں نے چرچ میں قائم بے گھر افراد کے کیمپ پر دھاوا بولا۔
حملے میں کئی افراد ہلاک ہوئے۔ متعدد افراد زخمی بھی ہوئے۔
بعض افراد کے اغوا ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
علاقے میں سکیورٹی مزید سخت
حملے کے بعد کینسکوف میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ سکیورٹی کی صورتحال بھی مزید خراب ہوگئی۔
ہیتی حکومت نے علاقے میں اضافی سکیورٹی اہلکار بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔
حکومت کا مقصد علاقے میں امن و امان بحال کرنا اور شہریوں کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔
ہیتی کے وزیراعظم الیکس دیدیے فیلس ایمے کے دفتر نے واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔
وزیراعظم کے دفتر نے متاثرہ خاندانوں سے بھی اظہار تعزیت کیا۔
کینسکوف میں گینگ کا بڑھتا اثر
کینسکوف ہیتی کے دارالحکومت کے جنوب مشرق میں واقع پہاڑی علاقہ ہے۔
یہ علاقہ کئی ماہ سے گینگ اور سکیورٹی فورسز کے درمیان کشیدگی کا مرکز بنا ہوا ہے۔
مسلح گروہ اس علاقے میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
حالیہ حملے نے ہیتی میں جاری سکیورٹی بحران کی سنگینی مزید واضح کردی ہے۔
ہیتی میں بے گھری اور غذائی بحران
اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق ہیتی میں تقریباً 15 لاکھ افراد اپنے گھروں سے بے گھر ہوچکے ہیں۔
ملک کی آبادی تقریباً 11 ملین ہے۔ ان میں 50 لاکھ سے زیادہ افراد کو شدید غذائی قلت کا سامنا ہے۔
ہیتی میں گینگ تشدد نے شہری زندگی کو شدید متاثر کیا ہے۔
ملک میں سیاسی اور سکیورٹی بحران بھی مسلسل برقرار ہے۔
یہ بحران 2024 کے آغاز میں مزید شدت اختیار کر گیا تھا۔ اس دوران مسلح گینگز نے بڑے پیمانے پر تشدد شروع کیا۔
تشدد کے باعث ہیتی کے سیاسی نظام پر بھی شدید دباؤ پڑا۔ اس صورتحال میں اس وقت کے غیر منتخب وزیراعظم کو عہدہ چھوڑنا پڑا۔
