ڈکار: سینیگال کے صدر باسیرو دیومائے فائے نے اپنے سابق سیاسی اتحادی اور سابق وزیر اعظم عثمان سونکو سے اختلافات کے بعد "کیرائے” (Kiiraay) کے نام سے نئی سیاسی جماعت کے قیام کا اعلان کر دیا۔
رپورٹس کے مطابق باسیرو دیومائے فائے اور عثمان سونکو دونوں کا تعلق پاسٹیف (PASTEF) جماعت سے تھا، جس نے 2024 کے صدارتی انتخابات میں کامیابی حاصل کر کے فائے کو اقتدار تک پہنچایا تھا۔ صدر منتخب ہونے کے بعد فائے نے عثمان سونکو کو وزیر اعظم مقرر کیا، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ دونوں رہنماؤں کے درمیان اختلافات شدت اختیار کر گئے، جس کے نتیجے میں مئی میں سونکو کو عہدے سے ہٹا دیا گیا۔
صدر فائے نے دارالحکومت ڈکار میں ایک بڑے عوامی اجتماع کے دوران نئی جماعت "کیرائے” کی نقاب کشائی کی۔ وولوف زبان میں "کیرائے” کا مطلب "تحفظ” یا "ڈھال” ہے، جبکہ جماعت کا انتخابی نعرہ "ریپبلکن پیٹریاٹس” رکھا گیا ہے۔
تقریب میں سیکڑوں کارکنوں اور حامیوں نے شرکت کی۔ کانفرنس ہال میں گنجائش کم ہونے کے باعث بڑی تعداد میں لوگ باہر موجود رہے، جہاں وہ صدر فائے کے حق میں نعرے لگاتے اور "Vive Diomaye” تحریر شدہ اسکارف اٹھائے ہوئے تھے۔
اپنے خطاب میں صدر فائے نے کہا کہ نئی جماعت کی بنیاد جمہوریہ، اخلاقیات، شفافیت، بھائی چارے اور محنت کے اصولوں پر رکھی گئی ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ان کی جماعت ملک میں اصلاحات، شفاف حکمرانی اور عوامی خدمت کے ایجنڈے کو آگے بڑھائے گی۔
عثمان سونکو نے سابق صدر میکی سال کی حکومت کے خلاف اپنی پین افریقی سیاست اور اصلاحاتی بیانیے کے باعث نوجوانوں میں خاصی مقبولیت حاصل کی تھی۔ سونکو اور فائے نے 2024 کے انتخابات میں معاشی اصلاحات، سماجی انصاف اور بدعنوانی کے خاتمے کے وعدوں کے ساتھ مشترکہ انتخابی مہم چلائی تھی، تاہم بعد ازاں دونوں کے درمیان اختلافات سامنے آ گئے۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ نئی جماعت کے قیام سے سینیگال کی سیاست میں ایک نیا باب شروع ہو سکتا ہے، جبکہ بعض حامیوں کا خیال ہے کہ صدر فائے اب اپنی اصلاحاتی پالیسیوں پر زیادہ مؤثر انداز میں عمل درآمد کر سکیں گے۔

