رپورٹ: سید فرزند علی
اسلام آباد: پاکستان میں جمہوریہ تاجکستان کے سفیر یوسف شریف زادہ نے کہا ہے کہ پاکستان اور تاجکستان کے درمیان تعلیم، تجارت، سیاحت اور میڈیا کے شعبوں میں تعاون کے بے شمار مواقع موجود ہیں، جن سے فائدہ اٹھانے کے لیے دونوں برادر ممالک کو مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی۔
انہوں نے ان خیالات کا اظہار اسلام آباد میں ایک نجی کنسلٹنسی آفس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا، جہاں سفارتی، صحافتی اور سماجی حلقوں کی نمایاں شخصیات نے شرکت کی۔
تاجک سفیر نے کہا کہ تاجکستان پاکستانی طلبہ کے لیے عالمی معیار کی تعلیم کے دروازے کھول رہا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تعلیمی تعاون کو مزید وسعت دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ابن سینا تاجک اسٹیٹ میڈیکل یونیورسٹی خطے کے قدیم اور ممتاز طبی تعلیمی اداروں میں شمار ہوتی ہے، جہاں مختلف ممالک کے طلبہ زیرِ تعلیم ہیں۔
یوسف شریف زادہ نے کہا کہ پاکستان اور تاجکستان کے درمیان تاریخی، مذہبی اور ثقافتی تعلقات انتہائی مضبوط ہیں، جنہیں تعلیم، تجارت، سرمایہ کاری، سیاحت اور میڈیا کے ذریعے مزید مستحکم کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ تاجک سفارت خانہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے فروغ کے لیے اپنا فعال کردار جاری رکھے گا۔
تقریب میں آل پاکستان نیوز پیپرز اینڈ الیکٹرانک میڈیا ایمپلائز کنفیڈریشن (ایپنک) کے مرکزی چیئرمین محمد صدیق انظر، میڈیا ورکرز آرگنائزیشن کے صدر کلیم شمیم، پی ایف یو جے کے مرکزی سیکریٹری جنرل شکیل احمد، آر آئی یو جے کے صدر طارق عثمانی، سینئر صحافی تزین اختر، گلزار گیلانی سمیت متعدد صحافی، سماجی شخصیات اور دیگر مہمان شریک ہوئے۔ تاجک سفارت خانے کے ڈپٹی ہیڈ آف مشن معروف عبدالرحمان بھی سفیر کے ہمراہ موجود تھے۔
تقریب کے دوران صحافیوں نے سفیر سے دوطرفہ تجارت، سرمایہ کاری، سیاحت، میڈیا کے تبادلوں اور تعلیمی روابط سے متعلق مختلف سوالات کیے، جن کے جواب میں انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں اور نجی شعبہ، میڈیا اور تعلیمی ادارے ان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

