Table of Contents
وفاقی حکومت نے مسلح افواج کے 9 افسران کو سول سروس میں شامل کرنے کی منظوری دے دی ہے۔
فیڈرل پبلک سروس کمیشن (FPSC) کے مطابق تینوں مسلح افواج سے تعلق رکھنے والے 9 امیدوار نفسیاتی اور زبانی امتحان میں کامیاب ہوئے۔
کامیاب افسران کو مختلف سول سروس گروپس میں شامل کیا گیا ہے۔ ان افسران کی شمولیت مقابلے کے امتحان 2025 کے تحت ہوئی ہے۔
پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس میں 5 افسران شامل
ایف پی ایس سی کے مطابق پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس میں 5 افسران شامل کیے گئے ہیں۔
ان میں بری فوج کے کیپٹن سید شہریار خان شامل ہیں۔ بری فوج کے کیپٹن اسامہ مجتبٰی بھی پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کا حصہ بن گئے ہیں۔
کیپٹن حیدر علی کو بھی اسی سروس میں شامل کیا گیا ہے۔ پاک فضائیہ کے فلائٹ لیفٹیننٹ اسامہ احمد کو بھی پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس میں جگہ ملی ہے۔
پاک بحریہ کے لیفٹیننٹ ایاز حسین بھی پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس میں شامل کیے گئے ہیں۔
پولیس سروس میں 2 افسران شامل
پولیس سروس آف پاکستان میں مسلح افواج کے 2 افسران کو شامل کیا گیا ہے۔
بری فوج کے کیپٹن سید عتیق الرحمان پولیس سروس کا حصہ بن گئے ہیں۔ بری فوج کے کیپٹن سید تیمور علی کو بھی پولیس سروس میں شامل کیا گیا ہے۔
فارن سروس میں 2 افسران شامل
فارن سروس آف پاکستان میں بھی 2 افسران کی شمولیت کی منظوری دی گئی ہے۔
بری فوج کے کیپٹن شیراز احمد کو فارن سروس میں شامل کیا گیا ہے۔ پاک فضائیہ کی فلائٹ لیفٹیننٹ آصفہ علی مسعود بھی فارن سروس کا حصہ بن گئی ہیں۔
ایف پی ایس سی کی باضابطہ منظوری
فیڈرل پبلک سروس کمیشن نے کامیاب امیدواروں کی باضابطہ تفصیلات جاری کر دی ہیں۔
اعلامیے کے مطابق افسران نے نفسیاتی اور زبانی امتحان کامیابی سے مکمل کیا۔ اس کے بعد انہیں مقابلے کے امتحان 2025 کے تحت متعلقہ سروس گروپس میں شامل کرنے کی منظوری دی گئی۔
یوں مسلح افواج کے 9 افسران اب پاکستان کی سول سروس کے مختلف اہم شعبوں میں خدمات انجام دیں گے۔
