آزاد حکومتِ ریاست جموں و کشمیر نے وزیر زراعت علی شان سونی کو فوری طور پر وزارت کے عہدے سے برطرف کر دیا ہے۔
جاری کردہ سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق وزیراعظم آزاد کشمیر نے اپنے آئینی اختیارات استعمال کرتے ہوئے علی شان سونی کی برطرفی کی منظوری دی، جس کے بعد وہ وزارتِ زراعت، مویشی بانی، آبپاشی، ڈیری ڈویلپمنٹ اور سمال ڈیمز کے قلمدان سے سبکدوش ہو گئے ہیں۔
نوٹیفکیشن میں بتایا گیا ہے کہ یہ فیصلہ آئینِ عبوری 1974 کے آرٹیکل 14(3) کے تحت کیا گیا ہے، جبکہ کابینہ ڈویژن نے برطرفی کا باضابطہ نوٹیفکیشن متعلقہ سرکاری اداروں کو بھی ارسال کر دیا ہے۔
سیاسی حلقوں کے مطابق علی شان سونی نے وزارت کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی چھوڑ کر استحکام پاکستان پارٹی (آئی پی پی) میں شمولیت اختیار کر لی تھی، جس کے بعد ان کی سیاسی حیثیت اور وزارت کے مستقبل کے حوالے سے مختلف قیاس آرائیاں جاری تھیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آزاد کشمیر کے آئندہ انتخابات کے لیے علی شان سونی نے پاکستان پیپلز پارٹی کی مرکزی قیادت کے پاس اپنے کاغذاتِ نامزدگی بھی جمع نہیں کرائے تھے، جس کے بعد ان کی پارٹی وابستگی میں تبدیلی واضح ہو گئی تھی۔
سیاسی مبصرین کے مطابق یہ برطرفی آزاد کشمیر کی انتخابی سیاست میں ایک اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے، کیونکہ آئندہ انتخابات سے قبل مختلف سیاسی جماعتوں میں شمولیت اور سیاسی صف بندی کا عمل تیزی سے جاری ہے۔
