لاہور: سپریم کورٹ کی لاہور رجسٹری نے خواتین کے وراثتی حقوق سے متعلق ایک اہم اور تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے ہائی کورٹ، اپیلیٹ کورٹ اور ٹرائل کورٹ کے فیصلے کالعدم قرار دے دیے اور 71 سال بعد والدہ اور بہنوں کو وراثتی جائیداد میں ان کا قانونی اور شرعی حصہ دینے کا حکم جاری کر دیا۔
کیس کی سماعت سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں ہوئی، جبکہ 13 صفحات پر مشتمل فیصلہ جسٹس شاہد بلال حسن نے تحریر کیا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ خواتین کو وراثت سے محروم رکھنا نہ صرف غیر آئینی بلکہ غیر اسلامی بھی ہے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ خواتین کے وراثتی حقوق کا تحفظ صرف ریاست کی ذمہ داری نہیں بلکہ سول سوسائٹی، علماء کرام، ریونیو حکام اور قانونی ماہرین بھی اس بات کے پابند ہیں کہ خواتین کو ان کے جائز حقوق سے محروم نہ ہونے دیں۔
سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ جعلی ہبہ، فراڈ، خاندانی دباؤ یا دیگر غیر قانونی ذرائع استعمال کرکے خواتین کے وراثتی حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، جبکہ عدلیہ پر لازم ہے کہ ایسے معاملات میں خصوصی احتیاط اور حساسیت کا مظاہرہ کرے۔
فیصلے کے مطابق 1955ء میں والد کے انتقال کے بعد دو بھائیوں نے مبینہ طور پر زبانی ہبہ کا دعویٰ کرتے ہوئے پوری وراثتی جائیداد اپنے نام منتقل کروا لی تھی اور والدہ و بہنوں کو ان کے حصے سے محروم کر دیا تھا۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ، اپیلیٹ کورٹ اور ہائی کورٹ نے حقائق اور قانون کے برعکس فیصلے دیے۔ اگرچہ ہائی کورٹ نے یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ زبانی ہبہ کو کئی دہائیوں تک چیلنج نہیں کیا گیا، تاہم سپریم کورٹ نے ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد قرار دیا کہ کئی برس تک والدہ اور بہنوں کو زمین کی آمدن میں حصہ ملتا رہا، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ انہیں مبینہ ہبہ سے لاعلم رکھا گیا تھا۔
عدالت نے اس بنیاد پر ماتحت عدالتوں کے فیصلے کالعدم قرار دیتے ہوئے خواتین کے حق میں فیصلہ سنایا اور وراثتی جائیداد میں ان کے قانونی حصے کی ادائیگی کا حکم دے دیا۔
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں اس امر پر بھی زور دیا کہ خواتین کے وراثتی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے عدلیہ، انتظامیہ اور معاشرے کے تمام طبقات کو مؤثر کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ آئندہ کسی خاتون کو اس کے شرعی اور قانونی حق سے محروم نہ کیا جا سکے۔
