Table of Contents
لاہور: ڈائریکٹر جنرل پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ لاہور شفقت عباس نے کہا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ خطے میں امن، اجتماعی سلامتی اور علاقائی استحکام کے فروغ کی جانب اہم پیش رفت ہے۔
انہوں نے کہا کہ معاہدے کا مقصد کسی ملک کے خلاف محاذ آرائی نہیں ہے۔ اس کا مقصد امن، باہمی اعتماد اور مشترکہ سلامتی کو فروغ دینا ہے۔
شفقت عباس نے ان خیالات کا اظہار بدھ کو پی آئی ڈی لاہور کے زیر اہتمام پینل ڈسکشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ نشست کا موضوع ’’مکہ معاہدہ، امن، سلامتی اور استحکام‘‘ تھا۔
پینل ڈسکشن میں دفاعی تجزیہ کاروں، سینئر صحافیوں، کالم نگاروں، اساتذہ اور پی آئی ڈی افسران نے شرکت کی۔
مکہ معاہدہ امن اور تعاون کے لیے ہے
شفقت عباس نے کہا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان تعاون کو صرف دفاعی شعبے تک محدود نہیں کیا جاسکتا۔
تینوں ممالک کی اپنی اپنی صلاحیتیں اور تجربات ہیں۔ ان صلاحیتوں کو یکجا کرکے مؤثر تعاون کو فروغ دیا جاسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ تینوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کے ساتھ اقتصادی، سفارتی اور تزویراتی روابط بھی اہم ہیں۔
ان کے مطابق اختلافات کے حل کے لیے سفارت کاری اور مذاکرات کو ترجیح دینی چاہیے۔
قومی طاقت میں معیشت اور تعلیم بھی شامل ہیں
شفقت عباس نے کہا کہ آج کسی ملک کی طاقت صرف دفاعی صلاحیت سے طے نہیں ہوتی۔
معیشت، تعلیم، سائنس، ٹیکنالوجی اور انسانی وسائل بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اپنی نوجوان آبادی، جغرافیائی محل وقوع اور دفاعی صلاحیت سے قومی ترقی کے لیے فائدہ اٹھانا چاہیے۔
ان کے مطابق دفاعی کامیابیوں کو معاشی ترقی سے جوڑنا ضروری ہے۔ تعلیم، تحقیق، ہنرمندی اور برآمدات کے فروغ پر بھی توجہ دینی ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ مضبوط دفاع کے ساتھ مضبوط معیشت پاکستان کے عالمی کردار کو مزید مؤثر بنا سکتی ہے۔
مجیب الرحمن شامی کا تعلیم پر زور
سینئر صحافی اور تجزیہ کار مجیب الرحمن شامی نے کہا کہ پاکستان نے گزشتہ آٹھ دہائیوں میں دفاع اور سفارت کاری کے میدان میں اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں۔
انہوں نے پاکستانی سفارت کاروں کی خدمات کو بھی سراہا۔
مجیب الرحمن شامی نے کہا کہ پاکستان کی ایک بڑی کمزوری تعلیم کا شعبہ ہے۔ ان کے مطابق ملک میں تقریباً ڈھائی کروڑ بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔
انہوں نے تعلیمی نصاب، ہنرمندی، سائنس اور ٹیکنالوجی پر توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو برآمدات بڑھانا اور پیداواری صلاحیت بہتر بنانا ہوگی۔ دفاعی کامیابیوں کو معاشی ترقی میں تبدیل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
مکہ معاہدے میں تین ممالک کی صلاحیتیں شامل ہیں
سینئر صحافی سلمان غنی نے کہا کہ مکہ معاہدے میں تین مختلف نوعیت کی صلاحیتیں ایک جگہ آتی ہیں۔
انہوں نے پاکستان کو جوہری طاقت، سعودی عرب کو بڑی اقتصادی قوت اور ترکیہ کو دفاعی صنعت و ٹیکنالوجی کے حوالے سے اہم ملک قرار دیا۔
سلمان غنی کے مطابق مکہ معاہدہ ایک اہم پیش رفت ہے۔ اس کے مثبت اثرات اقتصادی تعاون اور سرمایہ کاری پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو دفاع کے ساتھ اپنی معیشت بھی مضبوط بنانا ہوگی۔
دفاعی تعاون کے وسیع اثرات ہیں
دفاعی تجزیہ کار کرنل (ر) عابد نے کہا کہ مکہ معاہدے میں پاکستانی قیادت نے اہم کردار ادا کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ معاہدے کو صرف دفاعی تناظر میں نہیں دیکھنا چاہیے۔
ان کے مطابق اس کے علاقائی، تزویراتی، اقتصادی اور سفارتی اثرات بھی ہوسکتے ہیں۔
کرنل (ر) عابد نے پاکستان کے جغرافیائی محل وقوع اور معدنی وسائل کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی۔
انہوں نے کہا کہ بدلتے عالمی حالات میں پاکستان کی جغرافیائی اہمیت مزید بڑھ رہی ہے۔
ڈاکٹر فلیحہ افضل نے مسلم ممالک کے تعاون پر زور دیا
سابق وائس چانسلر ہوم اکنامکس یونیورسٹی ڈاکٹر فلیحہ افضل نے کہا کہ مکہ معاہدے نے پاکستان کے کردار کو مزید نمایاں کیا ہے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں مزید مسلم ممالک بھی تعاون کے اس عمل کا حصہ بن سکتے ہیں۔
ان کے مطابق مسلم دنیا کو مشترکہ مفادات کے تحفظ کے لیے مشترکہ حکمت عملی اپنانا ہوگی۔
انہوں نے اقتصادی ترقی، علمی تعاون، دفاعی صلاحیت اور علاقائی امن کے لیے تعاون بڑھانے پر زور دیا۔
مقررین کا مشترکہ مؤقف
کالم نگار ملک سلمان نے کہا کہ مکہ معاہدہ مسلم ممالک کے درمیان باہمی اعتماد اور اجتماعی سلامتی کو فروغ دے سکتا ہے۔
جی سی یونیورسٹی لاہور کی پروفیسر ڈاکٹر فرزانہ ریاض نے بھی مسلم ممالک کے درمیان روابط مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
صحافی نوراللہ نے کہا کہ پاکستان کو اپنی دفاعی پوزیشن کے ساتھ معاشی اور سفارتی کامیابیوں پر بھی توجہ دینی چاہیے۔
مقررین نے کہا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان بڑھتا تعاون خطے میں امن اور استحکام کے لیے مثبت کردار ادا کرسکتا ہے۔
انہوں نے مسلم ممالک پر زور دیا کہ وہ اختلافات سے بالاتر ہوکر مشترکہ مفادات کے لیے تعاون کریں۔
مکہ معاہدہ تعاون کی نئی راہیں کھول سکتا ہے
پینل ڈسکشن میں مقررین نے مکہ معاہدے کے دفاعی، سفارتی، اقتصادی اور علاقائی پہلوؤں پر گفتگو کی۔
مقررین کے مطابق تینوں ممالک کی دفاعی، اقتصادی اور سفارتی صلاحیتیں ایک دوسرے کی تکمیل کرتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں مسلم ممالک کے درمیان سفارت کاری اور مشترکہ حکمت عملی کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔
مقررین نے امید ظاہر کی کہ مکہ معاہدہ باہمی اعتماد کو مضبوط کرے گا۔ اس سے تعاون کی نئی راہیں بھی کھل سکتی ہیں۔
آخر میں ڈائریکٹر جنرل پی آئی ڈی لاہور شفقت عباس نے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ اس نوعیت کی علمی اور تجزیاتی نشستیں قومی و بین الاقوامی امور پر عوامی شعور بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
