چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی اور سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ اگر آصف علی زرداری کی حکومت کو سازش کے تحت ختم نہ کیا جاتا تو آج دیامر بھاشا ڈیم مکمل ہو چکا ہوتا۔
دیامر میں ایک انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (PSDP) کے تحت دیگر ترقیاتی منصوبوں سے قبل دیامر بھاشا ڈیم کی تکمیل کو ترجیح دے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے لیے اس وقت دیامیر بھاشا ڈیم سے زیادہ اہم کوئی منصوبہ نہیں اور حکومت کو اس کی جلد تکمیل کے لیے تمام وسائل بروئے کار لانے چاہئیں۔
بلاول بھٹو نے اپنے خطاب میں سابق صدر آصف علی زرداری کے دورِ حکومت کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں بڑے ترقیاتی منصوبوں اور علاقائی روابط کی بنیاد اسی دور میں رکھی گئی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر بعض فیصلے اور اقدامات نہ کیے جاتے تو بعد میں شروع ہونے والے کئی منصوبے ممکن نہ ہوتے۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے گلگت بلتستان کے عوام سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ پارٹی ہمیشہ اس خطے کے حقوق اور ترقی کے لیے آواز اٹھاتی رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی ترقی گلگت بلتستان کی ترقی سے جڑی ہوئی ہے اور علاقے کو مزید آئینی، سیاسی اور معاشی اختیارات ملنے چاہئیں۔
انہوں نے کہا کہ 18ویں آئینی ترمیم کے تحت صوبوں کو دیے گئے اختیارات کی طرز پر گلگت بلتستان کے عوام کو بھی مزید بااختیار بنایا جانا چاہیے۔
بلاول بھٹو زرداری نے ملکی اور علاقائی صورتحال پر بھی اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں قومی اتحاد اور ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل انتہائی اہم ہے۔

