Table of Contents
رپورٹ کے مطابق اسرائیل، امریکا اور کئی عرب ممالک کے فوجی سربراہان نے جرمنی میں اہم اجلاس کیا۔
اجلاس میں ایران سے متعلق امور اور خطے کی سیکیورٹی صورتحال پر گفتگو ہوئی۔
’ایکسیوس‘ کے مطابق یہ اجلاس گزشتہ ہفتے جرمنی کے ایک نجی اسکی ریزورٹ میں ہوا۔
اجلاس کی میزبانی امریکی سینٹ کام کے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر نے کی۔
سینٹ کام نے بھی جرمنی میں اجلاس کی تصدیق کی ہے۔
ادارے کے مطابق آٹھ ممالک کے اعلیٰ فوجی رہنما کانفرنس کے دوران شریک ہوئے۔
ایران اور علاقائی کشیدگی پر بات چیت
رپورٹ کے مطابق اجلاس میں ایران کے ساتھ ممکنہ جنگ اور علاقائی کشیدگی پر بات ہوئی۔
اسرائیل، امریکا، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے نمائندے شریک تھے۔
قطر، اردن، مصر، بحرین اور کویت کے فوجی حکام بھی اجلاس میں موجود تھے۔
رپورٹ کے مطابق یہ اس نوعیت کا پہلا اجتماع تھا۔
یہ ملاقات فروری میں امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف مشترکہ مہم کے بعد ہوئی۔
تاہم، ان ممالک کے حکام پہلے بھی ایسے اجلاسوں میں شریک ہو چکے ہیں۔
اسرائیلی فوج کی کارروائیوں پر بریفنگ
رپورٹ کے مطابق آئی ڈی ایف کے چیف آف اسٹاف ایال زامیر نے اجلاس میں بریفنگ دی۔
انہوں نے مختلف محاذوں پر اسرائیلی فوج کی کارروائیوں سے متعلق معلومات فراہم کیں۔
رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا کہ بریڈ کوپر نے بھی بریفنگ دی۔
انہوں نے کہا کہ امریکی فوج خطے سے انخلا کا منصوبہ نہیں رکھتی۔
یہ بات ایران کی جانب سے امریکی فوجی اڈوں پر حملوں کے پس منظر میں بتائی گئی۔
آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حرکت
رپورٹ کے مطابق کوپر نے آبنائے ہرمز سے متعلق امریکی منصوبوں پر بھی بات کی۔
انہوں نے خطے میں سمندری نقل و حمل بڑھانے کے منصوبے سے آگاہ کیا۔
آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے اہم بحری راستہ ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ حالیہ کشیدگی سے اس راستے کی صورتحال متاثر ہوئی ہے۔
باب المندب اور حوثی حملوں پر بھی گفتگو
’ایکسیوس‘ کے مطابق اجلاس میں اسرائیل اور سعودی عرب کے درمیان تعاون پر بھی بات ہوئی۔
یہ تعاون یمن کے حوثی گروپ سے متعلق سیکیورٹی امور پر مرکوز ہے۔
رپورٹ کے مطابق دونوں ممالک سینٹ کام کی مدد سے مختلف امکانات کا جائزہ لے رہے ہیں۔
ان میں سعودی عرب کو حوثی حملوں سے نمٹنے میں مدد دینے کے طریقے شامل ہیں۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ بات چیت باب المندب کی سمت حوثیوں کی پیش قدمی سے متعلق بھی تھی۔
اسرائیل اور سعودی عرب کے درمیان براہ راست فوجی تعاون کی نوعیت واضح نہیں کی گئی۔
سینٹ کام کا بیان
سینٹ کام نے ’ایکسیوس‘ کو دیے گئے بیان میں اجلاس کی تصدیق کی۔
بیان کے مطابق جرمنی میں ایک طے شدہ کانفرنس کے دوران آٹھ ممالک کے اعلیٰ فوجی رہنماؤں کی میزبانی کی گئی۔
سینٹ کام نے کہا کہ رہنماؤں نے مشرق وسطیٰ میں سیکیورٹی تعاون بڑھانے کے مواقع پر تبادلہ خیال کیا۔
اسرائیلی اخبار ’ہیوم‘ نے بھی اس سے قبل سینٹ کام کے کردار کی رپورٹ دی تھی۔
رپورٹ کے مطابق سینٹ کام حوثی حملوں سے متعلق اسرائیل اور سعودی عرب کے رابطوں کی نگرانی کر رہا ہے۔
آئی ڈی ایف نے ’ٹائمز آف اسرائیل‘ کی جانب سے جرمنی میں ہونے والے اجلاس پر تبصرے کی درخواست مسترد کر دی۔
