Table of Contents
یروشلم — اسرائیلی فوج نے مغربی کنارے کے فلسطینی قصبے طیبہ کو غیر رہائشی اسرائیلیوں کے لیے بند کر دیا ہے۔ فوج کا کہنا ہے کہ یہ اقدام اسرائیلی آباد کاروں کے بڑھتے ہوئے پرتشدد حملوں کو روکنے کے لیے کیا گیا۔
اسرائیلی فوج کے مطابق پابندی فلسطینی شہریوں پر لاگو نہیں ہوگی۔ فوج نے طیبہ کو محدود فوجی علاقے میں تبدیل کرنے کی وجہ علاقے میں اسرائیلیوں کی جانب سے ہونے والے بعض پرتشدد واقعات کو قرار دیا ہے۔
فوجی کارروائی اور سیکیورٹی اقدامات
اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ حکم کی خلاف ورزی کی اطلاع ملنے پر فوجی اہلکار علاقے میں بھیجے جائیں گے۔ اہلکار مبینہ اجتماعات کو منتشر کرنے اور مشتبہ افراد کو حراست میں لینے کی کارروائی کریں گے۔
فوج کے مطابق اس اقدام کا مقصد مقامی آبادی کے تحفظ کے ساتھ علاقے میں امن و امان برقرار رکھنا ہے۔
طیبہ میں آبادکاروں کے حملوں کا پس منظر
طیبہ مغربی کنارے کے ان چند فلسطینی قصبوں میں شامل ہے جہاں مسیحی آبادی اب بھی موجود ہے۔ یہ قصبہ اپنی مذہبی اور ثقافتی اہمیت کے باعث بھی نمایاں ہے۔
رائٹرز کے مطابق گزشتہ جون میں اسرائیلی آباد کاروں نے طیبہ کے قریب ایک بڑے آتش زدگی کے واقعے کے دوران امدادی کارروائیوں میں رکاوٹ ڈالی تھی۔ فلسطینی شہری دفاع کے اہلکاروں اور ایک مقامی پادری نے اس واقعے کی اطلاع دی تھی۔
اقوام متحدہ کی رپورٹ
اقوام متحدہ کی ایک حالیہ تحقیقات میں مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف آبادکاروں کے حملوں پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے۔
رپورٹ میں الزام عائد کیا گیا کہ بعض حملوں میں اسرائیلی حکام براہ راست ملوث رہے۔ ان حملوں کے نتیجے میں فلسطینی شہری ہلاک، زخمی اور بے گھر ہوئے۔
اسرائیلی مشن نے اقوام متحدہ کی رپورٹ کے نتائج کو مسترد کیا ہے۔ اسرائیلی حکام کا مؤقف ہے کہ صدر، وزیراعظم اور دیگر ذمہ داران فلسطینیوں کے خلاف تشدد کی بارہا مذمت کر چکے ہیں۔
طیبہ کی مذہبی اہمیت
طیبہ مغربی کنارے کے اہم مسیحی علاقوں میں شمار ہوتا ہے۔ قصبے میں یونانی آرتھوڈوکس اور رومن کیتھولک مسیحی برادری موجود ہے۔
قصبے کے کچھ حصے مغربی کنارے کے ایریا بی میں واقع ہیں۔ یہاں سول انتظامیہ فلسطینی اتھارٹی کے پاس ہے، جبکہ سیکیورٹی معاملات میں اسرائیلی حکام کے ساتھ رابطہ ضروری ہوتا ہے۔
مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں تقریباً 50 ہزار فلسطینی مسیحی آباد ہیں۔ یہ برادری خطے کی قدیم مسیحی آبادیوں میں شمار ہوتی ہے۔
خطے میں بڑھتی کشیدگی
طیبہ میں تازہ اسرائیلی فوجی اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مغربی کنارے میں فلسطینیوں اور اسرائیلی آبادکاروں کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ نئے سیکیورٹی اقدامات کا مقصد تشدد کی روک تھام اور مقامی آبادی کا تحفظ ہے۔ دوسری جانب فلسطینی علاقوں میں آبادکاروں کے حملوں اور ان کے اثرات پر عالمی سطح پر تشویش کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔
