Table of Contents
پاکستان نے یمن کی بگڑتی صورتحال پر فوری سفارتی کوششوں کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس سے سفیر عاصم افتخار احمد نے خطاب کیا۔
انہوں نے کہا کہ حوثی حملوں سے علاقائی امن اور استحکام کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔
ان کے مطابق یمن کا بحران انتہائی خطرناک مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔
عاصم افتخار نے کہا کہ موجودہ صورتحال کے پیش نظر سفارتی کوششیں فوری تیز کرنا ہوں گی۔
باب المندب میں بڑھتی کشیدگی پر تشویش
پاکستانی سفیر نے باب المندب کے گرد حوثی حملوں کے پھیلاؤ پر تشویش کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے خطے میں کشیدگی بڑھ رہی ہے۔
ان کے مطابق فوری اور مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔
انہوں نے بحران کے حل کے لیے سفارتی راستے کو اہم قرار دیا۔
عاصم افتخار نے سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں کی شدید مذمت کی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان ایسے تمام حملوں کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔
عالمی تجارت اور توانائی کے تحفظ کا معاملہ
پاکستانی سفیر نے بحری گزرگاہوں کی سیکیورٹی پر بھی زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ اہم بحری راستوں کو خطرے میں ڈالنا سنگین نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔
ان کے مطابق بحری راستوں کو بطور ہتھیار استعمال کرنے سے عالمی تجارت متاثر ہو سکتی ہے۔
اس کے ساتھ توانائی کے تحفظ کو بھی خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
عاصم افتخار نے کہا کہ حوثی حملوں کے عالمی معیشت پر بھی سنگین اثرات پڑ سکتے ہیں۔
سعودی عرب کے ساتھ اظہار یکجہتی
عاصم افتخار نے سعودی عرب کے لیے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان سعودی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے۔
پاکستان سعودی عرب کی سلامتی کی بھی مکمل حمایت کرتا ہے۔
انہوں نے سعودی عرب کے جائز حقِ دفاع کی بھی حمایت کا اظہار کیا۔
یمن کے سیاسی حل کی حمایت
پاکستانی سفیر نے یمن میں کشیدگی کم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے مذاکرات اور سیاسی تصفیے کے لیے مخلصانہ کوششوں کی حمایت کا اعلان کیا۔
عاصم افتخار کے مطابق یمن کا جامع سیاسی تصفیہ پائیدار امن کی بنیاد بن سکتا ہے۔
ان کے مطابق سیاسی حل سے علاقائی استحکام کو بھی فروغ مل سکتا ہے۔
