وفاقی وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک نے اعلان کیا ہے کہ حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے نظام میں شفافیت لانے کے لیے اہم فیصلہ کر لیا ہے، جس کے تحت آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) اب روزانہ کی بنیاد پر پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کا تعین کرے گی اور نئی قیمتیں اپنی ویب سائٹ پر جاری کرے گی۔
اسلام آباد میں وفاقی وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے علی پرویز ملک نے کہا کہ حکومت کا مقصد پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں عالمی منڈی کے مطابق فوری ردوبدل کو براہِ راست عوام تک منتقل کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چاہے قیمتوں میں اضافہ ہو یا کمی، اس کا اثر بغیر تاخیر صارفین تک پہنچایا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ بین الاقوامی منڈی میں ڈیزل کی قیمت تقریباً 140 ڈالر فی بیرل جبکہ پٹرول کی قیمت 89 ڈالر سے بڑھ کر 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ چکی ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے ملکی وسائل استعمال کرتے ہوئے عوام کو ممکنہ حد تک ریلیف فراہم کرنے کی کوشش کی، تاہم بعض فیصلے ریاستی مفاد میں ناگزیر ہوتے ہیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ جب عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی آئی تو حکومت نے پاکستان میں بھی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم کیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پٹرول اور ڈیزل پر عائد پٹرولیم لیوی کی موجودہ سطح اب بھی ماضی کے مقابلے میں کم ہے اور حکومت تمام شراکت داروں کے مفادات کو شفاف انداز میں آگے بڑھانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔
اس موقع پر وفاقی وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ حالیہ عالمی کشیدگی کے باعث دنیا بھر میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا اور کئی ممالک کو ایندھن کی قلت کا سامنا بھی کرنا پڑا، تاہم پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی دستیابی یقینی بنائی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت نے ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی کرکے 129 ارب روپے کی سبسڈی فراہم کی تاکہ عوام پر بوجھ کم کیا جا سکے۔
عطا اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ دنیا کے کئی ممالک میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں روزانہ کی بنیاد پر مقرر کی جاتی ہیں، اسی طرز پر پاکستان میں بھی شفاف نظام متعارف کرایا جا رہا ہے تاکہ قیمتوں میں کمی کا فائدہ فوری طور پر عوام تک پہنچ سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین اب مکمل طور پر شفاف ہوگا اور اس کا ریکارڈ عوام کے سامنے موجود رہے گا۔ ان کے مطابق آئل مارکیٹنگ کمپنیاں غیر معمولی منافع نہیں کما رہیں بلکہ موجودہ حالات میں مشکلات کا سامنا کر رہی ہیں، جبکہ بحران کے دوران ذخیرہ اندوزی یا ناجائز منافع خوری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔

