سینئر وزیر پنجاب مریم اورنگزیب نے وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی سے ملاقات کی، جس میں صوبے کے عوام کو بہتر اور محفوظ سفری سہولیات کی فراہمی کے لیے حکومتِ پنجاب اور پاکستان ریلوے کے درمیان مختلف مشترکہ منصوبوں پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
ملاقات میں فیصلہ کیا گیا کہ حکومتِ پنجاب صوبے بھر میں موجود تمام اَن مینڈ ریلوے لیول کراسنگز کو مینڈ کرنے کی ذمہ داری سنبھالے گی۔ اس مقصد کے لیے 177 لیول کراسنگز کی اپ گریڈیشن پر 7.9 ارب روپے خرچ کیے جائیں گے تاکہ حادثات کی روک تھام اور عوام کے سفر کو زیادہ محفوظ بنایا جا سکے۔
اجلاس میں پنجاب کے 8 ریلوے روٹس پر ڈیزل ملٹیپل یونٹس (DMUs) چلانے کے منصوبے پر بھی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ اس منصوبے پر عملدرآمد کے لیے حکومتِ پنجاب اور پاکستان ریلوے کے درمیان مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) تیار کی جا رہی ہے۔
اس حوالے سے نیسپاک کی ٹیموں نے ابتدائی سروے کا آغاز کر دیا ہے، جبکہ شاہدرہ تا نارووال ریلوے سیکشن کا سروے مکمل کیا جا چکا ہے۔ مجوزہ ایم او یو کے تحت ریلوے انفراسٹرکچر کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور سفری نظام کو مزید مؤثر بنانے کے اقدامات کیے جائیں گے۔
ملاقات میں ریلوے تنصیبات کے اطراف ماحول دوست ترقیاتی منصوبوں پر بھی اتفاق کیا گیا۔ حکومتِ پنجاب نے ریلوے ٹریک کے اطراف پارکس کے قیام کے لیے بجٹ مختص کر دیا ہے، جس کے تحت شاہدرہ سے رائیونڈ تک ریلوے ٹریک کے اطراف 40 پارکس تعمیر کیے جائیں گے۔
اس موقع پر وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز ایک وژنری قیادت کی حامل ہیں اور عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں پر خصوصی توجہ دے رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لیول کراسنگز کی بہتری سے ریلوے حادثات میں نمایاں کمی آئے گی جبکہ ڈی ایم یوز کی سروس شروع ہونے سے پنجاب میں عوام کو جدید، تیز رفتار اور بہتر سفری سہولیات میسر آئیں گی۔
انہوں نے حکومتِ پنجاب کے تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ وفاق اور صوبے کے درمیان اس اشتراک سے ریلوے کے شعبے میں مثبت تبدیلیاں آئیں گی اور عوام کو براہِ راست فائدہ پہنچے گا۔

