Table of Contents
اسلام آباد: قومی اسمبلی نے آئندہ مالی سال کا فنانس بل 2026/27 کثرتِ رائے سے منظور کر لیا ہے، جس کے ساتھ ہی نئے وفاقی بجٹ کی منظوری کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ اسپیکر سردار ایاز صادق کی صدارت میں ہونے والے اس اہم اجلاس میں اپوزیشن کی جانب سے پیش کی جانے والی تمام ترامیم کو مسترد کر دیا گیا۔
نئے فنانس بل میں ٹیکسوں کی نئی شرحیں اور اصلاحات
منظور کیے گئے فنانس بل کے تحت یکم جولائی سے ملک میں بڑے پیمانے پر ٹیکس تبدیلیاں لاگو ہو رہی ہیں:
- انکم ٹیکس استثنیٰ: سالانہ 6 لاکھ روپے تک آمدن رکھنے والے افراد کو انکم ٹیکس سے استثنیٰ برقرار رکھا گیا ہے، جبکہ دیگر سلیبز پر 1 سے 35 فیصد تک ٹیکس لاگو ہوگا۔
- سوشل میڈیا اور یوٹیوب آمدن: آن لائن کمائی اور یوٹیوب انکم پر 5 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس عائد کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔
- پراپرٹی سیکٹر پر ٹیکس: جائیداد فروخت کرنے والے پر 2.75 فیصد ایڈوانس ٹیکس اور خریدنے والے پر فیئر مارکیٹ ویلیو کا 1.25 فیصد ایڈوانس ٹیکس لاگو ہوگا۔
- کارپوریٹ اور بینکنگ سیکٹر: بینکوں اور فرٹیلائزر کمپنیوں کی 15 کروڑ (150 ملین) روپے سے زائد آمدن پر 10 فیصد اضافی ٹیکس عائد ہوگا۔
- رعایتیں: پی آئی اے کے جہازوں کے پرزوں پر 15 سال کے لیے سیلز ٹیکس چھوٹ دی گئی ہے، جبکہ فائلرز اور نان فائلرز کے لیے قوانین مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔
اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کی کڑی تنقید
اجلاس کے دوران اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے حکومت اور اسپیکر پر شدید تنقید کی۔ انہوں نے عدلیہ کے اختیارات، سیاسی قیدیوں کی رہائی، ماہ رنگ بلوچ کی سزا اور کشمیر کے عوامی مسائل پر آواز اٹھائی۔ انہوں نے خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے حقوق کا ذکر کرتے ہوئے حکومت کی آئینی حیثیت پر بھی سوالات اٹھائے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی آمد اور امریکہ ایران معاہدے پر گفتگو
اجلاس کے دوران وزیراعظم شہباز شریف ایوان میں پہنچے اور انہوں نے خود اپوزیشن اراکین کی نشستوں پر جا کر ان سے ہاتھ ملایا، جسے وزیر دفاع خواجہ آصف نے ایک بہترین جمہوری روایت قرار دیا۔
ایوان سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے ایک بڑی سفارتی کامیابی کا اعلان کیا:
"سوئٹزرلینڈ میں پاکستان کی میزبانی میں تاریخی ایران امریکہ معاہدہ طے پا گیا ہے، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی ہو چکی ہے۔ اگلے 60 روز میں تکنیکی مذاکرات ہوں گے جس کے بعد ایک مستقل عالمی امن معاہدہ وجود میں آئے گا اور عالمی میڈیا اس شاندار پاکستانی سفارت کاری کی تعریف کر رہا ہے۔”
وزیراعظم نے مزید بتایا کہ ایران کے صدر آج ہی پاکستان تشریف لا رہے ہیں جن کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر بات چیت ہوگی۔ انہوں نے اپوزیشن لیڈر کی تنقید کا جواب دیتے ہوئے حکومت کو آئینی اور قانونی قرار دیا۔
