راولپنڈی: پاک فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ بلوچستان میں دہشتگردی کے پیچھے ایسے بیرونی عناصر موجود ہیں جو پاکستان میں امن نہیں چاہتے، جبکہ دہشتگردوں کو افغانستان کی سرزمین سے بھی معاونت حاصل ہونے کا دعویٰ کیا۔
آئی ایس پی آر ہیڈکوارٹرز میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشتگردوں کا ہر جگہ تعاقب کریں گے اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف بھی بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق گزشتہ چار روز کے دوران بلوچستان میں پیش آنے والے تین بڑے دہشتگرد حملوں میں شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں سمیت 42 افراد شہید ہوئے۔
انہوں نے بتایا کہ زیارت میں بلوچستان پولیس نے بہادری سے دہشتگردوں کا مقابلہ کیا، جہاں کم از کم 15 دہشتگرد ہلاک ہوئے جبکہ اس کارروائی میں 9 پولیس اہلکار شہید ہوئے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے مزید کہا کہ مجموعی طور پر حالیہ کارروائیوں کے دوران 54 دہشتگرد مارے گئے، جبکہ بدھ کے روز ہونے والی مختلف کارروائیوں میں مزید 14 دہشتگرد ہلاک کیے گئے۔
انہوں نے بتایا کہ ایک سکیورٹی قافلے پر حملے میں پاک فوج کے 11 جوان شہید ہوئے، تاہم جوابی کارروائی میں حملہ آور گروہ کے 14 دہشتگرد مارے گئے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ دہشتگردوں نے بعض اہلکاروں کو یرغمال بھی بنایا تھا، تاہم سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کے دوران متعدد حملہ آور ہلاک ہوئے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ دہشتگردی کے پیچھے بھارت اور دیگر پاکستان مخالف عناصر کا کردار ہے، جبکہ افغانستان کی سرزمین دہشتگردوں کی پناہ گاہ کے طور پر استعمال ہونے کا دعویٰ بھی کیا۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ بلوچستان کے عوام اور صوبائی حکومت دہشتگردی کے خلاف واضح مؤقف رکھتے ہیں اور بہادری سے اس چیلنج کا مقابلہ کر رہے ہیں۔
انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان پاکستان کی آن، شان اور جان ہے، اور ریاست دہشتگردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف اپنی کارروائیاں بلا تعطل جاری رکھے گی۔
