Table of Contents
واشنگٹن/ریاض: ایک امریکی اہلکار نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے سے متعلق مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے اور واشنگٹن کو توقع ہے کہ دونوں ممالک جلد کسی معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں۔
امریکی اہلکار کے مطابق ممکنہ معاہدے کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کے ذریعے تجارتی جہاز رانی اور تیل کی معمول کی ترسیل بحال ہونے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
امریکا کو جلد معاہدے کی توقع
رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی اہلکار نے، جس نے شناخت ظاہر نہیں کی، کہا کہ ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز سے متعلق پیش رفت جاری ہے اور واشنگٹن کو جلد معاہدے کی توقع ہے۔
اہلکار کے مطابق اگر دونوں ممالک ایسا معاہدہ کرتے ہیں جس کے تحت تجارتی جہاز رانی بغیر کسی رکاوٹ کے بحال ہو جاتی ہے تو امریکا ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کرنے کی جانب پیش رفت کر سکتا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ امریکی اقدامات ایران کی جانب سے اپنے وعدوں پر عمل درآمد سے مشروط رہیں گے۔
عالمی تیل کی ترسیل کے لیے اہم آبی گزرگاہ
آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی تجارت کے لیے انتہائی اہم سمندری راستہ ہے۔ جنگ سے پہلے دنیا بھر میں استعمال ہونے والے ہر پانچ بیرل تیل میں سے تقریباً ایک بیرل اس آبی گزرگاہ سے گزرتا تھا۔
موجودہ کشیدگی کے باعث اس راستے سے تیل کی ترسیل متاثر ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں عالمی توانائی کی قیمتوں اور افراطِ زر پر بھی دباؤ بڑھا ہے۔
ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی
رپورٹ کے مطابق امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ شروع کیے جانے کے بعد آبنائے ہرمز کی صورتحال مزید پیچیدہ ہوئی۔
ایران نے آبنائے میں اپنی سرگرمیوں کو خطے میں جاری دشمنی کے تناظر میں جائز قرار دیا ہے، جبکہ واشنگٹن کی جانب سے اس صورتحال کو عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے خطرہ قرار دیا جاتا رہا ہے۔
حالیہ ہفتوں کے دوران امریکی انتظامیہ نے متعدد مرتبہ عندیہ دیا کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے کوئی انتظام قریب آ سکتا ہے، تاہم ایران نے مذاکرات جاری ہونے کی تردید کی ہے۔
اس لیے یہ واضح نہیں کہ موجودہ سفارتی سرگرمیاں کسی دیرپا معاہدے یا مستقل انتظام کی صورت اختیار کر سکیں گی یا نہیں۔
بحیرہ احمر میں بھی کشیدگی
آبنائے ہرمز کی صورتحال کے ساتھ ساتھ بحیرہ احمر اور خلیج عدن میں بھی بحری جہاز رانی کو خطرات کا سامنا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یمن میں موجود ایران کے اتحادی حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی کارروائیوں میں بھی اضافہ ہوا ہے، جس سے عالمی تجارت کے ایک دوسرے اہم سمندری راستے پر دباؤ بڑھا ہے۔
تیل کی عالمی منڈی پر ممکنہ اثرات
اگر ایران اور عمان آبنائے ہرمز سے متعلق کسی ایسے انتظام پر متفق ہو جاتے ہیں جس سے تجارتی جہاز رانی معمول پر آتی ہے تو اس پیش رفت سے عالمی تیل کی سپلائی اور توانائی کی منڈی پر نمایاں اثر پڑ سکتا ہے۔
تاہم ممکنہ معاہدے کی حتمی شرائط، اس پر عمل درآمد کے طریقہ کار اور ایران کی جانب سے وعدوں کی تکمیل سے متعلق تفصیلات ابھی سامنے آنا باقی ہیں۔
