برسلز: یورپی پارلیمنٹ کے متعدد ارکان نے امریکی اسٹرائیکر فولارین بالوگن کی ریڈ کارڈ معطلی ختم کرنے کے فیصلے پر فیفا کے صدر جیانی انفانٹینو کے کردار کی تحقیقات کا مطالبہ کر دیا ہے۔ قانون سازوں نے اس اقدام کو شفافیت کے اصولوں کے منافی اور عالمی فٹ بال کی ساکھ کے لیے نقصان دہ قرار دیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق یورپی قانون سازوں کا کہنا ہے کہ فیفا کی جانب سے بالوگن کی معطلی ختم کرنے کا فیصلہ غیر معمولی ہے، جس نے یہ سوالات پیدا کر دیے ہیں کہ آیا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ممکنہ سیاسی مداخلت یا دباؤ اس فیصلے پر اثرانداز ہوا۔
رپورٹ کے مطابق یورپی پارلیمنٹ کے ارکان کے ایک گروپ نے باقاعدہ مہم کا آغاز کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ فیفا کے صدر جیانی انفانٹینو کے کردار اور فیصلے کے تمام پہلوؤں کی آزادانہ تحقیقات کرائی جائیں۔
قانون سازوں نے الزام عائد کیا کہ انفانٹینو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے قریبی تعلقات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسا فیصلہ کیا جس نے عالمی فٹ بال کی روایات اور ڈسپلنری نظام پر سوالات کھڑے کر دیے۔ ان کے مطابق اس اقدام سے کھیلوں کے انتظامی فیصلوں میں سیاسی اثر و رسوخ کے خدشات مزید گہرے ہوئے ہیں۔
یورپی پارلیمنٹ نے یورپی یونین کی فٹ بال ایسوسی ایشنز پر بھی زور دیا ہے کہ وہ فیفا سے اس فیصلے کے طریقۂ کار اور کسی بھی ممکنہ سیاسی مداخلت کے حوالے سے باضابطہ نظرثانی کا مطالبہ کریں۔
واضح رہے کہ فولارین بالوگن کو بوسنیا اور ہرزیگووینا کے خلاف امریکا کے ورلڈ کپ میچ میں ریڈ کارڈ دکھایا گیا تھا۔ عالمی فٹ بال قوانین کے مطابق ریڈ کارڈ حاصل کرنے والا کھلاڑی عموماً اگلا میچ کھیلنے کا اہل نہیں ہوتا، تاہم فیفا نے ان کی معطلی ختم کرتے ہوئے انہیں اگلے میچ میں شرکت کی اجازت دے دی۔
دوسری جانب یورپ کی فٹ بال گورننگ باڈی یوئیفا نے بھی اس فیصلے کو "ناقابلِ فہم” اور "بلاجواز” قرار دیتے ہوئے اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے، جبکہ بیلجیم فٹ بال ایسوسی ایشن بھی اس فیصلے کو چیلنج کرنے کا اعلان کر چکی ہے۔
یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ فیفا یا امریکی انتظامیہ کی جانب سے یورپی قانون سازوں کے ان الزامات پر باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ ٹرمپ کے دباؤ سے متعلق دعووں کی آزاد ذرائع سے تصدیق بھی نہیں ہو سکی۔
