امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک کے پاس بیلسٹک میزائل موجود ہیں تو ایران کو مکمل طور پر ان صلاحیتوں سے محروم رکھنا ناانصافی ہوگی۔
پیرس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ خطے کے متعدد ممالک، جن میں سعودی عرب اور قطر بھی شامل ہیں، بیلسٹک میزائل رکھتے ہیں، اس لیے ایران کے پاس بھی مناسب تعداد میں ایسے میزائل موجود ہونا ایک فطری بات ہے۔
انہوں نے کہا کہ جوہری مذاکرات کا بنیادی مقصد ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا اور خطے میں کشیدگی کم کرنا ہے، جبکہ دفاعی نوعیت کے روایتی ہتھیاروں اور میزائلوں پر الگ تناظر میں بات کی جا سکتی ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا کہ بیلسٹک میزائلوں کا معاملہ جوہری پروگرام سے الگ ہے اور امریکا اور ایران کے درمیان جاری سفارتی عمل میں جوہری معاہدے کے دائرہ کار میں میزائل پروگرام شامل نہیں تھا۔
امریکی صدر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی میں کمی کے لیے ایک عبوری معاہدے کے تحت سفارتی پیش رفت جاری ہے۔ اس سلسلے میں امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت پر فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کی موجودگی میں دستخط کیے گئے تھے، جبکہ اس معاہدے کو ’’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔
سیاسی اور دفاعی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا حالیہ بیان ایران کے میزائل پروگرام سے متعلق امریکی مؤقف میں لچک کی نشاندہی کرتا ہے، تاہم اس حوالے سے مستقبل میں مزید مذاکرات اور علاقائی سکیورٹی خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے حتمی فیصلے کیے جائیں گے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں طاقت کے توازن، ایران کے جوہری پروگرام اور علاقائی سلامتی سے متعلق معاملات عالمی سفارت کاری کا اہم مرکز بنے ہوئے ہیں۔
