امریکا اور ایران نے ایک اہم پیش رفت کرتے ہوئے ’’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘‘ پر دستخط کر دیے ہیں، جس کے تحت دونوں ممالک آئندہ 60 روز کے دوران جامع معاہدے کی تیاری کے لیے مذاکرات جاری رکھیں گے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فرانس کے تاریخی ورسائی محل میں فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کی موجودگی میں مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے، جبکہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے تہران میں اسی دستاویز پر دستخط کیے۔ دونوں ممالک میں دستخط کی تقریبات کی تصاویر اور ویڈیوز بھی منظر عام پر آ گئی ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق واشنگٹن نے ایران کے ساتھ طے پانے والی 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت کی تفصیلات جاری کر دی ہیں، جبکہ اس معاہدے کو باضابطہ طور پر ’’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘‘ کا نام دیا گیا ہے، جسے پاکستان کی سفارتی کوششوں اور ثالثی کے تناظر میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ جنیوا میں متوقع مذاکراتی اجلاس کے حوالے سے حتمی تصدیق چند گھنٹوں میں کی جائے گی، تاہم وفود کی شرکت تاحال طے شدہ شیڈول کے مطابق ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے تصدیق کی کہ مفاہمتی یادداشت کے فارسی اور انگریزی دونوں متون پر باضابطہ دستخط کیے گئے ہیں تاکہ مستقبل میں کسی قسم کے تشریحی اختلافات یا قانونی ابہام سے بچا جا سکے۔
معاہدے کے مطابق دونوں ممالک اگلے 60 روز کے دوران ثالث ممالک کی موجودگی میں مذاکرات کریں گے تاکہ ایک جامع اور مستقل معاہدے کو حتمی شکل دی جا سکے۔ ان مذاکرات میں ایران کے جوہری پروگرام، اقتصادی پابندیوں میں نرمی، تیل کی برآمدات، مالیاتی لین دین، علاقائی سلامتی اور دیگر اہم امور سرفہرست ہوں گے۔
عالمی مبصرین کے مطابق یہ پیش رفت نہ صرف امریکا اور ایران کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز ثابت ہو سکتی ہے بلکہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے خاتمے اور پائیدار امن کے قیام کے لیے بھی ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے اب بھی کئی حساس اور پیچیدہ معاملات پر اتفاق رائے ضروری ہوگا۔
اگر آئندہ دو ماہ کے دوران مذاکرات کامیابی سے آگے بڑھتے ہیں تو یہ معاہدہ خطے کی سیاسی، معاشی اور تزویراتی صورتحال پر دور رس اثرات مرتب کر سکتا ہے۔
