کراچی: پاکستان بھر کی گڈز ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشنز نے اپنے مطالبات کی منظوری تک 8 اگست 2026 سے ملک گیر غیر معینہ مدت کی پہیہ جام ہڑتال کا اعلان کر دیا ہے، جبکہ وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک سے استعفیٰ کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔
کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے گڈز ٹرانسپورٹرز کے رہنما ملک شہزاد اعوان نے کہا کہ ملک بھر کی ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشنز نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا ہے کہ مطالبات منظور ہونے تک ہڑتال جاری رکھی جائے گی۔ ان کے مطابق مطالبات پر مشتمل چارٹر آف ڈیمانڈ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو پیش کیا جا چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ٹرانسپورٹرز کا اہم مطالبہ یہ ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا روزانہ کی بنیاد پر تعین ختم کر کے انہیں دوبارہ ماہانہ بنیاد پر مقرر کیا جائے، جبکہ حالیہ قیمتوں میں ہونے والے اضافے بھی واپس لیے جائیں۔
ملک شہزاد اعوان نے مطالبہ کیا کہ حالیہ ٹول ٹیکس میں اضافہ فوری طور پر واپس لیا جائے اور اسے 30 جون 2024 کی سطح پر بحال کیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ گڈز ٹرانسپورٹ سیکٹر پر عائد 7 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس کم کر کے آئل ٹینکرز کی طرح 2 فیصد کیا جائے۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ایکسل لوڈ قوانین پر سختی سے عمل درآمد کرایا جائے تاکہ اوور لوڈنگ کی مکمل روک تھام ممکن ہو۔ اس کے علاوہ کسٹمز کے ایس آر او 1619/2024 کو ختم کرنے، ڈرائیورز کو ٹیسٹ کے بعد ایچ ٹی وی لائسنس جاری کرنے اور کراچی پورٹ و پورٹ قاسم کے اطراف ٹرانسپورٹ گاڑیوں کے لیے مناسب پارکنگ کی سہولت فراہم کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا۔
ٹرانسپورٹرز نے بلوچستان میں گاڑیوں کو نذر آتش کیے جانے کے واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے 20 سال پرانی گاڑیوں پر پابندی اور روڈ حادثات کی صورت میں 97 لاکھ روپے دیت سے متعلق قانون کو مسترد کرتے ہوئے اسے واپس لینے کا مطالبہ بھی کیا، جبکہ سندھ میں گاڑیوں کی رجسٹریشن کے دوران تھرڈ پارٹی انشورنس کے نام پر مبینہ اضافی وصولیوں کے خاتمے پر بھی زور دیا۔
دوسری جانب منی مزدا ایسوسی ایشن پاکستان نے بھی گڈز ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال کی مکمل حمایت کا اعلان کر دیا۔ ایسوسی ایشن کے صدر تنویر احمد جٹ نے کہا کہ 8 اگست سے شروع ہونے والی ملک گیر پہیہ جام ہڑتال میں ان کی تنظیم بھرپور شریک ہوگی اور مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رکھا جائے گا۔
