یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے روس کے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے کہ اس کی افواج نے مشرقی یوکرین کے اہم صنعتی شہر کوسٹیانتینیوکا پر مکمل قبضہ کر لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہر اب بھی یوکرینی افواج کے کنٹرول میں ہے اور روس محض پروپیگنڈا کر رہا ہے۔
یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب روسی فوج نے صدر ولادیمیر پوتن کو بریفنگ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ روسی افواج نے ڈونیٹسک کے اس اہم شہر پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے، جسے ماسکو طویل عرصے سے اپنی فوجی مہم کا ایک اہم ہدف قرار دیتا رہا ہے۔
زیلنسکی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں کہا "یہ بالکل درست نہیں ہے۔ یہ صرف ایک اور روسی جھوٹ ہے اور مصنوعی کامیابی کا تاثر پیدا کرنے کی کوشش ہے۔”
انہوں نے روسی صدر پوتن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اگر واقعی کوسٹیانتینیوکا روس کے قبضے میں ہوتا تو پوتن کو جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی مذاکرات کی خاطر وہاں ان سے ملاقات کرنے میں کوئی مسئلہ نہ ہوتا۔
ادھر یوکرین کے جنرل اسٹاف نے بھی روسی دعووں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا کہ کوسٹیانتینیوکا پر یوکرینی فوج کا مکمل کنٹرول برقرار ہے۔
جنرل اسٹاف کے مطابق مشرقی محاذ پر تعینات 19ویں آرمی کور کے یونٹس شہر کے اندر اور اس کے اطراف اپنی دفاعی پوزیشنوں پر موجود ہیں اور روسی حملوں کا مؤثر انداز میں مقابلہ کر رہے ہیں۔
کوسٹیانتینیوکا ڈونیٹسک ریجن میں یوکرین کی اہم دفاعی لائن کا حصہ ہے اور اسے یوکرینی فوج کے مضبوط ترین دفاعی مراکز میں شمار کیا جاتا ہے۔ عسکری ماہرین کے مطابق اگر روس اس شہر پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو اسے شمالی سمت میں مزید پیش قدمی اور یوکرین کی دفاعی پٹی کو کمزور کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔
روسی افواج گزشتہ کئی ماہ سے شہر کے نواحی علاقوں میں کارروائیاں کر رہی ہیں اور بعض حصوں میں پیش رفت کا دعویٰ بھی کرتی رہی ہیں، تاہم یوکرینی حکام کا کہنا ہے کہ شہر کا مرکزی حصہ اور اہم دفاعی مقامات اب بھی ان کے کنٹرول میں ہیں۔
جنگی تجزیہ کاروں کے مطابق کوسٹیانتینیوکا کی صورتحال مشرقی یوکرین میں جاری لڑائی کے آئندہ مرحلے کے لیے انتہائی اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ یہ شہر ڈونیٹسک میں یوکرین کی دفاعی حکمت عملی کا بنیادی ستون تصور کیا جاتا ہے۔
