Table of Contents
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سخت امیگریشن پالیسی کے تحت کارروائیاں جاری ہیں۔
امریکی حکام نے تارکین وطن کے خلاف گرفتاریوں میں اضافہ کردیا ہے۔
اس مہم کے دوران ہزاروں غیر ملکی شہریوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔
ان میں بھارتی شہری بھی بڑی تعداد میں شامل ہیں۔
رپورٹس کے مطابق امریکا سے 4 ہزار 800 سے زائد بھارتی شہری ڈی پورٹ ہوچکے ہیں۔
ایک ماہ میں 51 ہزار گرفتاریاں
غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی امیگریشن حکام نے گزشتہ ماہ ریکارڈ گرفتاریاں کیں۔
امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) نے ایک ماہ میں 51 ہزار افراد کو گرفتار کیا۔
یہ تعداد امریکی امیگریشن کارروائیوں میں نمایاں اضافہ ظاہر کرتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق روزانہ تقریباً 2 ہزار گرفتاریاں کی جارہی ہیں۔
اگست کے پہلے ہفتے میں بھی گرفتاریاں تیز رہیں۔
اس دوران روزانہ اوسطاً 4 ہزار 200 افراد گرفتار کیے گئے۔
بھارتی شہری بھی بڑے پیمانے پر متاثر
بھارتی وزارت خارجہ نے بھی ملک بدری کے اعداد و شمار جاری کیے ہیں۔
وزارت کے مطابق گزشتہ سال 3 ہزار 567 بھارتی شہری امریکا سے ڈی پورٹ ہوئے۔
یہ 16 سال کے دوران سب سے زیادہ سالانہ تعداد تھی۔
رواں سال کے پہلے چھ ماہ میں مزید 1 ہزار 273 بھارتی شہری ڈی پورٹ کیے گئے۔
یوں ڈی پورٹ کیے جانے والے بھارتی شہریوں کی مجموعی تعداد 4 ہزار 800 سے تجاوز کرگئی ہے۔
ایشیائی باشندوں کی گرفتاریاں بھی بڑھ گئیں
امریکی تنظیم اسٹاپ اے اے پی آئی ہیٹ نے بھی اعداد و شمار پیش کیے ہیں۔
تنظیم کے مطابق جنوری 2025 سے مارچ 2026 تک 14 ہزار 402 ایشیائی باشندے گرفتار ہوئے۔
ان گرفتار افراد میں تقریباً 28 فیصد بھارتی شہری تھے۔
یہ اعداد و شمار امریکا میں ایشیائی تارکین وطن کے خلاف کارروائیوں کو بھی نمایاں کرتے ہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ کی سخت پالیسی
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی حکومت میں امیگریشن کو اہم ترجیح بنایا ہے۔
ان کی انتظامیہ نے غیر قانونی امیگریشن کے خلاف کارروائیاں تیز کی ہیں۔
امیگریشن حکام مختلف ریاستوں میں گرفتاریاں کر رہے ہیں۔
ملک بدری کی کارروائیوں میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔
اس پالیسی نے امریکا میں تارکین وطن کے مستقبل پر بحث تیز کردی ہے۔
بھارتی شہریوں کی بڑی تعداد میں ملک بدری نے نئی دہلی کی توجہ بھی حاصل کی ہے۔
بھارتی شہریوں کی ملک بدری میں اضافہ
حالیہ اعداد و شمار بھارتی شہریوں کی ملک بدری میں نمایاں اضافے کو ظاہر کرتے ہیں۔
گزشتہ سال ہی 3 ہزار 567 بھارتی شہری امریکا سے واپس بھیجے گئے تھے۔
رواں سال کے پہلے چھ ماہ میں تعداد مزید بڑھ گئی ہے۔
اس صورتحال کے باعث امریکا میں مقیم بھارتی تارکین وطن میں تشویش پائی جاتی ہے۔
امریکی امیگریشن پالیسی پر عالمی سطح پر بھی نظر رکھی جارہی ہے۔
