بلغراد: سربیا کے صدر الیگزینڈر ووچک نے اعلان کیا ہے کہ وہ آئندہ چند ہفتوں میں اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیں گے، جس کے بعد ملک میں قبل از وقت صدارتی اور پارلیمانی انتخابات کرائے جائیں گے۔
دارالحکومت بلغراد میں حکومت کے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے صدر ووچک نے کہا کہ وہ زیادہ عرصہ صدر کے منصب پر برقرار نہیں رہیں گے اور چند ہفتوں کے اندر اپنا استعفیٰ پیش کر دیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ استعفے کے فوراً بعد ملک میں نئے صدارتی اور پارلیمانی انتخابات کے انعقاد کا اعلان کیا جائے گا تاکہ عوام نئے مینڈیٹ کا فیصلہ کر سکیں۔
صدر ووچک نے اپنے خطاب میں کہا کہ موجودہ حالات میں عوام سے دوبارہ رجوع کرنا ہی مناسب راستہ ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ ملک کے مستقبل کا فیصلہ ووٹ کی طاقت سے کیا جائے۔
واضح رہے کہ الیگزینڈر ووچک اپنی دوسری اور آئینی طور پر آخری صدارتی مدت پوری کر رہے ہیں، جس کی میعاد اصل شیڈول کے مطابق 2027 کے وسط میں ختم ہونا تھی۔ تاہم ان کے اچانک استعفے کے اعلان نے سربیا کی سیاست میں نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق صدر کے اس فیصلے کے بعد سربیا میں انتخابی سرگرمیوں میں تیزی آنے کا امکان ہے، جبکہ مختلف سیاسی جماعتیں قبل از وقت انتخابات کی تیاریوں میں مصروف ہو سکتی ہیں۔
صدر ووچک کی جانب سے استعفے کی وجوہات یا انتخابات کی حتمی تاریخ کے بارے میں فی الحال مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئیں، تاہم توقع کی جا رہی ہے کہ آئندہ چند روز میں حکومت اور الیکشن حکام اس حوالے سے باضابطہ اعلان کریں گے۔
