Table of Contents
اسیک کول: صدرِ مملکت آصف علی زرداری سرکاری دورے پر کرغیز جمہوریہ پہنچ گئے، جہاں اسیک کول بین الاقوامی ہوائی اڈے پر کرغیزستان کے صدر سادیر ژاپاروف نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔
صدر مملکت کی آمد پر انہیں فوجی اعزاز کے ساتھ گارڈ آف آنر پیش کیا گیا، جبکہ دونوں رہنماؤں نے خیرسگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔
تین دہائیوں بعد پاکستانی صدر کا تاریخی دورہ
یہ دورہ خصوصی تاریخی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کے 1995ء میں کیے گئے دورۂ کرغیزستان کے بعد صدر آصف علی زرداری اس وسطی ایشیائی ملک کا دورہ کرنے والے پاکستان کے پہلے صدر ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ دورہ پاکستان اور کرغیزستان کے درمیان اعلیٰ سطحی سفارتی روابط کو مزید مضبوط بنانے کی اہم کوشش تصور کیا جا رہا ہے۔
دوطرفہ تعاون کے فروغ پر مذاکرات
دورے کے دوران صدر آصف علی زرداری اور کرغیز صدر سادیر ژاپاروف کے درمیان وفود کی سطح پر مذاکرات بھی ہوں گے، جن میں دونوں ممالک کے تعلقات کے مختلف پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔
رہنماؤں کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، معدنیات، زراعت، تعلیم، صحت، سیاحت، ڈیجیٹل معیشت اور عوامی روابط کے فروغ سمیت متعدد شعبوں میں تعاون بڑھانے پر تبادلۂ خیال متوقع ہے۔
علاقائی روابط پر بھی غور
سرکاری ذرائع کے مطابق ملاقاتوں میں پاکستان اور کرغیزستان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات کو مزید وسعت دینے کے ساتھ ساتھ علاقائی تعاون، اقتصادی روابط اور باہمی شراکت داری کو مضبوط بنانے کے امکانات پر بھی غور کیا جائے گا۔
دونوں ممالک کی قیادت وسطی اور جنوبی ایشیا کے درمیان اقتصادی اور تجارتی روابط کے فروغ کے لیے مشترکہ حکمت عملی پر بھی تبادلۂ خیال کرے گی۔
