Table of Contents
لاہور: پنجاب بار کونسل نے جعلی وکلاء اور جعلی انرولمنٹ کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کے دوران اہم کارروائی کرتے ہوئے انرولمنٹ سیکشن کے انچارج جاوید سلہری کو ملازمت سے برطرف کر دیا۔
ترجمان پنجاب بار کونسل کے مطابق یہ کارروائی چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی فخر حیات اعوان کی منظوری کے بعد کی گئی، جہاں تحقیقات میں الزامات ثابت ہونے پر متعلقہ افسر کے خلاف محکمانہ کارروائی عمل میں لائی گئی۔
جعلی وکلاء کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی برقرار
پنجاب بار کونسل نے واضح کیا ہے کہ پیشۂ وکالت کے تقدس اور ادارے کی ساکھ پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور جعلی وکلاء کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر سختی سے عمل جاری رہے گا۔
چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی فخر حیات اعوان نے کہا کہ کسی بھی فرد کو قانون اور ضابطوں کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر پنجاب بار کونسل کا کوئی ملازم جعلی انرولمنٹ یا جعلی وکلاء کے معاملے میں ملوث پایا گیا تو اس کے خلاف بلاامتیاز سخت قانونی اور محکمانہ کارروائی کی جائے گی۔
شفاف انرولمنٹ نظام پر زور
فخر حیات اعوان نے کہا کہ پنجاب بار کونسل جعلی وکلاء کے خاتمے، پیشۂ وکالت کے وقار کے تحفظ اور شفاف انرولمنٹ نظام کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کر رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ نئے وکلاء کی تعلیمی اسناد کی ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) سے تصدیق کے عمل کو مزید مؤثر اور لازمی بنایا جا رہا ہے تاکہ صرف مستند اور اہل امیدوار ہی وکالت کے شعبے میں داخل ہو سکیں۔
شفافیت اور میرٹ کا عزم
پنجاب بار کونسل نے اپنے اعلامیے میں اس عزم کا اعادہ کیا کہ وکالت کے شعبے میں شفافیت، میرٹ اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنانے کے لیے آئندہ بھی بلاامتیاز کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔
کونسل کا کہنا ہے کہ جعلی انرولمنٹ اور غیر قانونی طور پر وکالت کرنے والے افراد کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ مزید مؤثر انداز میں جاری رکھا جائے گا تاکہ عوام کا عدالتی نظام اور قانونی پیشے پر اعتماد برقرار رہے۔
