واشنگٹن: امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ امریکا نے ایرانی قیادت، بحریہ اور فضائیہ کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے امریکی افواج کو نشانہ بنایا تو یہ جنگ کے دوبارہ آغاز کا جواز بن سکتا ہے۔
وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ یوکرین تنازع کا پائیدار حل صرف مذاکرات اور مصالحت کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگ کے خاتمے کے لیے تمام فریقین کو سیاسی حل کی جانب بڑھنا ہوگا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے روس اور یوکرین کے درمیان براہِ راست سفارتی رابطوں کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر یوکرینی صدر Volodymyr Zelenskyy اور روسی صدر پیوٹن ملاقات کریں تو یہ ایک مثبت پیش رفت ہوگی۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکا ایران کے جوہری پروگرام پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور ضرورت پڑنے پر معاہدے کے بغیر بھی افزودہ یورینیم حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی ممکنہ معاہدے کے تحت ایران کو جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ جاری مذاکرات کے نتائج جلد سامنے آ سکتے ہیں اور عوام کو جلد معلوم ہو جائے گا کہ دونوں ممالک کے درمیان کس نوعیت کا معاہدہ طے پایا ہے۔ ٹرمپ نے واضح کیا کہ وہ اس وقت ایرانی سپریم لیڈر سے ملاقات کے خواہاں نہیں، تاہم اگر کوئی جامع معاہدہ طے پا جاتا ہے تو ایسی ملاقات کا امکان موجود ہو سکتا ہے۔
لبنان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ خطے میں استحکام برقرار رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ ان کے مطابق لبنان میں امن کا قیام نہ صرف ملک بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کے لیے فائدہ مند ہوگا۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ لبنان کی موجودہ صورتحال کے حوالے سے Hezbollah کے ساتھ بات چیت کی گئی ہے۔
صدر ٹرمپ کے حالیہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب یوکرین جنگ، ایران کے جوہری پروگرام اور لبنان کی سکیورٹی صورتحال عالمی سفارت کاری کے اہم ترین موضوعات بنے ہوئے ہیں اور امریکا ان تمام معاملات میں فعال کردار ادا کر رہا ہے۔
