واشنگٹن: آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری جہازوں پر حملوں کے بعد امریکا نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے متعدد اہداف پر "طاقتور حملے” کرنے کا اعلان کیا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ یہ کارروائی ان حملوں کے جواب میں کی جا رہی ہے جن میں، امریکی دعوے کے مطابق، آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تین تجارتی جہازوں کو ایران نے نشانہ بنایا۔
سینٹکام نے اپنے بیان میں کہا کہ کارروائی کا مقصد ایران کو "بھاری قیمت” چکانے پر مجبور کرنا ہے کیونکہ اس نے ایک بین الاقوامی آبی گزرگاہ میں شہری تجارتی جہاز رانی کو نشانہ بنایا۔
امریکی فوج کے مطابق یہ حملے بین الاقوامی بحری سلامتی کے تحفظ اور خطے میں تجارتی راستوں کو محفوظ رکھنے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔
سینٹکام نے مزید الزام عائد کیا کہ ایران کی حالیہ کارروائیاں غیر ضروری، خطرناک اور جنگ بندی سے متعلق مفاہمت کی واضح خلاف ورزی ہیں۔
دوسری جانب خبر جاری ہونے تک ایرانی حکام کی جانب سے امریکی حملوں یا سینٹکام کے دعوؤں پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا تھا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر دونوں ممالک کے درمیان یہ فوجی کارروائیاں جاری رہیں تو مشرق وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے، جبکہ عالمی توانائی کی منڈیوں اور بحری تجارت پر بھی اس کے اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔
