مظفرآباد: آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی نے پاکستان میں مقیم کشمیری مہاجرین کی 12 مخصوص نشستوں کے حوالے سے ایک اہم قرارداد منظور کر لی ہے، جس میں مہاجرین کی نمائندگی کو تاریخی اور آئینی حقیقت قرار دیتے ہوئے انتخابی پیچیدگیوں کے حل کے لیے آئینی اور قانونی اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔
قرارداد میں کہا گیا ہے کہ کشمیری مہاجرین کی قانون ساز اسمبلی میں نمائندگی ایک تسلیم شدہ آئینی اور تاریخی حیثیت رکھتی ہے، جسے برقرار رکھتے ہوئے انتخابی نظام میں درپیش مسائل اور پیچیدگیوں کو دور کیا جا سکتا ہے۔ قرارداد کے مطابق ایسے تمام معاملات کا حل قانون سازی اور آئینی اصلاحات کے ذریعے ممکن ہے تاکہ انتخابی عمل کو زیادہ شفاف، مؤثر اور تمام سیاسی جماعتوں کے لیے قابل قبول بنایا جا سکے۔
اسمبلی نے اس مؤقف کا اعادہ کیا کہ آئینی اصلاحات کا اختیار اور مینڈیٹ عوام کے منتخب نمائندوں کے پاس ہے، اس لیے مہاجرین کی نشستوں سے متعلق کسی بھی تبدیلی یا اصلاح کا فیصلہ قانون ساز اسمبلی کے دائرہ اختیار میں رہنا چاہیے۔
قرارداد میں تجویز دی گئی کہ اس اہم قومی اور آئینی معاملے پر وسیع مشاورتی عمل شروع کیا جائے، جس میں تمام سیاسی جماعتوں، بار ایسوسی ایشنز، بار کونسل، سول سوسائٹی، آئینی ماہرین اور دیگر متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو شامل کیا جائے تاکہ ایک متفقہ اور قابل عمل حل سامنے آ سکے۔
یہ قرارداد ایسے وقت میں منظور کی گئی ہے جب مہاجرین کی نشستوں کے حوالے سے آئینی اور قانونی مباحث جاری ہیں اور اس معاملے پر مختلف حلقوں کی جانب سے اصلاحات اور وضاحت کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ قرارداد کی منظوری کو آزاد کشمیر کے سیاسی اور آئینی نظام میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
