اسلام آباد: پاکستان نے ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق امریکا کے ساتھ حساس معلومات کے تبادلے سے متعلق گردش کرنے والی خبروں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد، گمراہ کن اور حقائق کے منافی قرار دیا ہے۔
دفتر خارجہ کے ترجمان نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ پاکستان نے ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق کوئی معلومات امریکا کے ساتھ شیئر نہیں کیں۔ ترجمان کے مطابق اس حوالے سے بعض ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی رپورٹس حقیقت پر مبنی نہیں اور ان میں کوئی صداقت موجود نہیں۔
ترجمان دفتر خارجہ نے 29 مئی کو نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور امریکی وزیر خارجہ مارک روبیو کے درمیان ہونے والی ملاقات سے متعلق بعض دعوؤں کی بھی تردید کی۔ انہوں نے کہا کہ اس ملاقات کے بارے میں پیش کی جانے والی بعض تشریحات اور قیاس آرائیاں درست نہیں ہیں۔
دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان کی خارجہ پالیسی اصولی مؤقف، علاقائی استحکام، خودمختاری کے احترام اور باہمی تعاون کے اصولوں پر استوار ہے۔ پاکستان ہمیشہ خطے میں امن، استحکام اور سفارتی روابط کے فروغ کا حامی رہا ہے اور کسی بھی ملک کے خلاف خفیہ معلومات کے تبادلے سے متعلق قیاس آرائیوں میں کوئی حقیقت نہیں۔
ترجمان نے زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان ذمہ دار ریاست کے طور پر بین الاقوامی قوانین اور سفارتی اصولوں کی پاسداری کرتا ہے اور علاقائی معاملات میں تعمیری کردار ادا کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ غیر مصدقہ اطلاعات اور قیاس آرائیوں پر مبنی رپورٹس عوام کو گمراہ کرنے کا سبب بن سکتی ہیں، اس لیے حقائق کی تصدیق کے بغیر ایسے دعوؤں پر یقین نہیں کیا جانا چاہیے۔
دفتر خارجہ کے بیان کے بعد ایران کے جوہری پروگرام اور پاکستان امریکا روابط سے متعلق پھیلنے والی افواہوں کی باضابطہ طور پر تردید کر دی گئی ہے۔
