پشاور: خیبرپختونخوا اسمبلی نے کیلاش میرج بل 2026 کی منظوری دے دی، جس کے تحت کیلاش کمیونٹی میں شادی، طلاق، خلع اور وراثت سے متعلق قانونی و روایتی طریقہ کار کو باقاعدہ قانونی حیثیت دے دی گئی ہے۔
اسمبلی میں پیش کیے گئے بل کے متن کے مطابق کیلاش قبیلے میں شادی صرف دونوں فریقین کی باہمی رضامندی سے ہوگی، جبکہ شادی کے لیے فریقین کا ذہنی طور پر صحت مند ہونا، کم از کم عمر 18 سال ہونا اور ممنوعہ رشتوں سے اجتناب لازمی قرار دیا گیا ہے۔
بل کے مطابق کیلاش کمیونٹی میں فرسٹ کزن (پہلے درجے کے کزن) کے درمیان شادی کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ ہر شادی کی مقامی رجسٹرار کے ذریعے رجسٹریشن لازمی ہوگی۔
قانون کے تحت شادی، طلاق اور خلع سے متعلق تمام ریکارڈ سرکاری دفاتر میں محفوظ رکھا جائے گا۔ بل میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ خلع، طلاق اور شادی کے خاتمے کے معاملات کیلاش برادری کی روایات کے مطابق نمٹائے جائیں گے۔
بل کے مطابق شوہر کے انتقال کی صورت میں جائیداد کی تقسیم اور وراثت کے حقوق بھی کیلاش کمیونٹی کے روایتی نظام کے تحت طے کیے جائیں گے۔
قانون میں جھوٹی معلومات فراہم کرنے، شادی کی رجسٹریشن نہ کرانے یا دیگر خلاف ورزیوں پر سزا اور جرمانے کی شقیں بھی شامل کی گئی ہیں۔
واضح رہے کہ اپریل 2026 میں خیبرپختونخوا کے وزیر بلدیات مینا خان آفریدی نے کیلاش میرج بل 2026 صوبائی اسمبلی میں پیش کیا تھا، جسے اب باقاعدہ منظوری مل گئی ہے۔

