Table of Contents
چتوان: نیپال کے ضلع چتوان میں سیلابی ریلوں میں بہہ جانے والے سیکڑوں نامعلوم افراد کی تدفین شروع کردی گئی ہے۔
حکام نے دیوگھاٹ کے جنگلات میں سیکڑوں قبریں کھودی ہیں۔
یہ علاقہ سیلاب سے متاثرہ وادیوں سے تقریباً 200 کلومیٹر دور ہے۔
حکام کے مطابق کئی لاشوں کی شناخت ممکن نہیں رہی۔
لاشیں تیزی سے گلنے لگیں
چتوان کے ضلعی افسر گنیش آریا نے بتایا کہ حکام کے پاس محدود راستے باقی تھے۔
شدید گرمی کے باعث لاشیں تیزی سے گل رہی ہیں۔
اس صورتحال سے عوامی صحت کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔
حکام نے ہفتے کو جنگل میں 96 نامعلوم لاشیں دفن کیں۔
مزید 100 سے زائد لاشوں کی تدفین کا منصوبہ بھی بنایا گیا ہے۔
امدادی ٹیمیں دریاؤں اور ملبے سے مزید لاشیں تلاش کر رہی ہیں۔
سیکڑوں افراد تاحال لاپتا
رائٹرز کے مطابق نیپال اور چین کی سرحدی وادیوں میں شدید سیلاب آیا تھا۔
گلیشیئر ٹوٹنے کے بعد اچانک سیلابی ریلے آئے۔
رپورٹ کے مطابق اس تباہی میں تقریباً 750 افراد ہلاک ہوئے۔
3 ہزار سے زائد افراد تاحال لاپتا ہیں۔
تقریباً 100 امدادی کارکن اور پولیس اہلکار لاشوں کی شناخت میں مصروف ہیں۔
حکام لاشوں کی تصاویر اور مکمل ریکارڈ بھی تیار کر رہے ہیں۔
ڈی این اے نمونے محفوظ کیے گئے
حکام نے ہر قبر کا ریکارڈ محفوظ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
قبروں پر شناختی نشانات بھی نصب کیے جا رہے ہیں۔
لاشوں سے ڈی این اے کے نمونے بھی حاصل کیے گئے ہیں۔
مستقبل میں شناخت ہونے پر لاشیں قبروں سے نکالی جا سکیں گی۔
بعد ازاں انہیں لواحقین کے حوالے کیا جائے گا۔
بھارت نے فرانزک ٹیم کے ذریعے نیپال کی مدد شروع کردی ہے۔
نیپال چین کی فرانزک ٹیم سے بھی تعاون کر رہا ہے۔
عارضی مردہ خانے میں لاشوں کا انبار
بھرت پور اسپتال میں عارضی مردہ خانہ قائم کیا گیا ہے۔
وہاں لاشوں کی تعداد گنجائش سے کہیں زیادہ ہوگئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق مردہ خانے میں تقریباً 125 لاشیں موجود تھیں۔
اس کی مقررہ گنجائش صرف 50 لاشوں کی تھی۔
لاشوں کے گلنے سڑنے سے شدید بدبو بھی پھیل گئی ہے۔
تقریباً 50 پولیس اہلکار اور اسپتال ملازمین لاشیں سنبھال رہے ہیں۔
لواحقین اپنے پیاروں کی تلاش میں
چتوان ایکسپو سینٹر کے باہر 200 سے زائد افراد موجود ہیں۔
یہ افراد اپنے لاپتا عزیزوں کی تلاش میں آئے ہیں۔
حکام نے شناخت کے لیے لاشوں کی تصاویر دکھانے کا انتظام کیا ہے۔
کئی خاندان دور دراز علاقوں سے چتوان پہنچے ہیں۔
بعض افراد ایک روز سے ہال میں داخلے کے منتظر ہیں۔
لاشوں کو محفوظ رکھنے کی کوشش
ایک پرانے مکان کو عارضی لاش گھر میں تبدیل کردیا گیا ہے۔
لاشوں کو باڈی بیگز میں رکھ کر چارپائیوں پر منتقل کیا گیا ہے۔
گلنے کا عمل روکنے کے لیے خشک برف استعمال کی جا رہی ہے۔
ایئر کنڈیشنرز اور صنعتی کولنگ یونٹس بھی مسلسل چل رہے ہیں۔
ریسکیو ٹیمیں مسلسل مزید لاشیں یہاں منتقل کر رہی ہیں۔
امدادی اہلکار بھی شدید دباؤ کا شکار
انسپکٹر انیل تھاپا آفت سے نمٹنے والے مرکز کے انچارج ہیں۔
انہوں نے لاشوں کی حالت کو انتہائی مشکل قرار دیا۔
ان کے مطابق بیشتر لاشیں ناقابل شناخت ہوچکی ہیں۔
کئی لاشوں کے چہرے بھی واضح نہیں رہے۔
انہوں نے کہا کہ اس صورتحال کے باعث کھانا پینا بھی مشکل ہوگیا ہے۔
دوسری جانب لواحقین اب بھی امید کے ساتھ انتظار کر رہے ہیں۔
انہیں امید ہے کہ شاید کسی لاش سے ان کے پیارے کی شناخت ہوجائے۔
