Table of Contents
تاشقند: ازبکستان چین کے جدید J-10CE لڑاکا طیارے حاصل کرنے والا دوسرا غیر ملکی ملک بن گیا ہے۔
چینی میڈیا کے مطابق پاکستان کے بعد ازبکستان J-10CE کا دوسرا غیر ملکی خریدار ہے۔
اس سے قبل رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ازبکستان نے 24 طیاروں کا آرڈر دیا ہے۔
تاہم چین اور ازبکستان نے اس تعداد کی باضابطہ تصدیق نہیں کی تھی۔
ازبک صدر کے دفتر کی ویڈیو میں طیارے نظر آگئے
ازبک صدر کے دفتر نے جمعہ کو ملک کے یومِ آزادی کی تقریبات کی ویڈیو جاری کی۔
ویڈیو میں کم از کم 6 J-10CE طیارے نظر آئے۔
طیارے رن وے پر موجود دکھائی دیے۔
ویڈیو میں انہیں فارمیشن میں پرواز کرتے ہوئے بھی دکھایا گیا۔
طیاروں کو واٹر کینن سلیوٹ بھی دیا گیا۔
یہ تقریب عام طور پر اہم فوجی یا سرکاری آمد کے موقع پر کی جاتی ہے۔
J-10CE چین کا جدید لڑاکا طیارہ
J-10CE چینی J-10C لڑاکا طیارے کا برآمدی ورژن ہے۔
یہ سنگل انجن اور کثیرالمقاصد لڑاکا طیارہ ہے۔
چین کئی برس سے اس طیارے کو عالمی دفاعی مارکیٹ میں فروغ دے رہا ہے۔
ازبکستان کی جانب سے اس کی شمولیت وسطی ایشیا کی دفاعی ترجیحات میں تبدیلی کی علامت بھی سمجھی جا رہی ہے۔
پاکستان پہلا غیر ملکی خریدار تھا
پاکستان J-10CE کا پہلا غیر ملکی خریدار تھا۔
پاکستانی فضائیہ نے یہ طیارے گزشتہ سال بھارت کے ساتھ ہونے والے مختصر فوجی تنازع میں استعمال کیے تھے۔
پاکستان نے دعویٰ کیا تھا کہ J-10CE طیاروں نے بھارتی جنگی طیارے مار گرائے۔
ان دعوؤں کے بعد اس طیارے میں عالمی دلچسپی میں اضافہ ہوا ہے۔
بنگلادیش بھی J-10CE میں دلچسپی رکھتا ہے
بنگلادیش بھی چینی J-10CE طیارے خریدنے کی جانب بڑھ رہا ہے۔
بنگلادیشی حکومت نے طیاروں کی ممکنہ خریداری کے لیے ابتدائی معاہدے کی منظوری کے مرحلے کی تصدیق کی ہے۔
اس کے ساتھ اٹیک ہیلی کاپٹرز اور دیگر دفاعی نظام کی خریداری بھی زیر غور ہے۔
ازبکستان کی جانب سے J-10CE طیاروں کی موجودگی کی تصدیق سے چین کی دفاعی مصنوعات کے لیے وسطی ایشیا میں ایک اہم نئی منڈی کھلنے کا امکان ہے۔
