قصرہ، مغربی کنارہ: مقبوضہ مغربی کنارے میں ہلاکت خیز جھڑپوں کے بعد اسرائیلی آباد کاروں نے اتوار کی علی الصبح فلسطینی دیہات پر حملے کیے، جن کے دوران دو مساجد کو آگ لگا دی گئی اور عمارتوں کی دیواروں پر نفرت انگیز نعرے تحریر کیے گئے۔
رائٹرز کے مطابق فلسطینی حکام نے بتایا کہ یہ حملے نابلس کے جنوب مشرق میں واقع قصرہ اور دیگر دیہات میں کیے گئے، جہاں آباد کاروں نے املاک کو نقصان پہنچایا اور مذہبی مقامات کو نشانہ بنایا۔
قصرہ ولیج کونسل کے سربراہ عبدالعظیم وادی نے بتایا کہ آباد کاروں نے گاؤں میں حال ہی میں مکمل ہونے والی ایک مسجد کو آگ لگا دی۔ ان کے مطابق حملہ آوروں نے دیواروں پر عبرانی زبان میں نعرے بھی تحریر کیے، جن میں "یہودی انتقام” اور نابلس کے قریب تال گاؤں میں ہلاک ہونے والے ایک اسرائیلی کا نام بھی شامل تھا۔
یہ واقعہ جمعہ کو پیش آنے والی پرتشدد جھڑپوں کے بعد سامنے آیا، جب اسرائیلی آباد کاروں کے ایک گروپ نے نابلس کے جنوب مغرب میں واقع تال گاؤں کے اطراف میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ فلسطینی حکام کے مطابق گاؤں کے مکین اپنے گھروں سے نکل کر آباد کاروں کا مقابلہ کرنے آئے، جس کے بعد جھڑپوں میں چار فلسطینی اور دو اسرائیلی فوجی ہلاک ہو گئے۔ اسرائیلی فوجیوں میں ایک مقامی سکیورٹی کوآرڈینیٹر بھی شامل تھا۔
اقوام متحدہ اور فلسطینی اتھارٹی کے اعداد و شمار کے مطابق رواں سال مغربی کنارے میں آباد کاروں اور فلسطینیوں کے درمیان جھڑپوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جن کے نتیجے میں درجنوں فلسطینی ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہو چکے ہیں۔
اسرائیلی حکام کی جانب سے مساجد میں آتش زنی کے ان الزامات پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ واقعے کی مزید تفصیلات سامنے آنے کا انتظار ہے۔

