نیویارک: یوگنڈا کے سینئر سفارت کار اور اقوام متحدہ کے سابق انڈر سیکرٹری جنرل اولارا اوتنو (Olara Otunnu) اقوام متحدہ کے اگلے سیکرٹری جنرل کے انتخاب کی دوڑ میں شامل ہو گئے ہیں۔ ان کی نامزدگی کے بعد اس اعلیٰ ترین عالمی عہدے کے لیے امیدواروں کی تعداد سات ہو گئی ہے۔
رائٹرز کے مطابق یوگنڈا نے جمعہ کے روز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اور سلامتی کونسل کے صدور کو باضابطہ خط ارسال کر کے 75 سالہ اولارا اوتنو کو سیکرٹری جنرل کے عہدے کے لیے نامزد کیا۔ وہ اقوام متحدہ میں انڈر سیکرٹری جنرل اور بچوں اور مسلح تنازعات کے لیے خصوصی نمائندے کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔
موجودہ سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرش کی دوسری پانچ سالہ مدت رواں سال کے آخر میں مکمل ہو رہی ہے، جس کے بعد نئے سربراہ کا انتخاب کیا جائے گا۔ نئے سیکرٹری جنرل کو عالمی تنازعات، مالی دباؤ، ادارہ جاتی اصلاحات اور اقوام متحدہ کی کارکردگی بہتر بنانے جیسے اہم چیلنجز کا سامنا ہوگا۔
اپنے وژن بیان میں اولارا اوتنو نے کہا کہ وہ اقوام متحدہ میں جاری اصلاحاتی عمل کو آگے بڑھانے، بڑے بین الاقوامی تنازعات کے حل کو ترجیح دینے، مصنوعی ذہانت (AI) سے متعلق اقوام متحدہ کے کام کی نگرانی کے لیے خصوصی ادارہ قائم کرنے اور موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے ایسی حکمت عملی اختیار کرنے کے حامی ہیں جو اقتصادی ترقی کو متاثر نہ کرے۔
اس وقت سیکرٹری جنرل کے عہدے کے لیے دیگر امیدواروں میں رافیل گروسی (ارجنٹائن)، مشیل بیچلیٹ (چلی)، ریبیکا گرینسپن (کوسٹا ریکا)، ماریا فرنینڈا ایسپینوسا (ایکواڈور)، کیرولین روڈریگز برکیٹ (گیانا) اور میکی سال (سینیگال) شامل ہیں۔
اطلاعات کے مطابق انتخابی عمل کا آغاز رواں ہفتے 15 رکنی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں غیر رسمی اسٹرا پولز سے ہوگا، جن کا مقصد امیدواروں کی حمایت کا ابتدائی جائزہ لینا ہے۔ سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ تاحال کوئی امیدوار واضح برتری حاصل نہیں کر سکا، تاہم متعدد ممالک کی رائے ہے کہ اس بار سیکرٹری جنرل کا عہدہ لاطینی امریکہ کو ملنا چاہیے، جبکہ اقوام متحدہ کی تاریخ میں پہلی خاتون سیکرٹری جنرل کے انتخاب کی حمایت بھی زور پکڑ رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق کامیابی کے لیے سب سے اہم مرحلہ سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان امریکہ، چین، روس، برطانیہ اور فرانس میں سے کسی کے ویٹو سے بچنا ہوگا، کیونکہ حتمی انتخاب میں ان ممالک کا کردار فیصلہ کن ہوتا ہے۔

