Table of Contents
بھارت کے جوہری ہتھیاروں کے ذخیرے میں تقریباً 190 وارہیڈز موجود ہیں۔
ان میں تقریباً 30 وارہیڈز نئے میزائلوں کے لیے مختص ہیں۔
یہ میزائل اس وقت تیاری کے مختلف مراحل میں ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق یہ تخمینہ امریکی ادارے نے جاری کیا ہے۔
رپورٹ فیڈریشن آف امریکن سائنٹسٹس کے جوہری معلومات منصوبے سے متعلق ہے۔
بھارت کے جوہری ذخیرے کا تخمینہ
رپورٹ میں بھارت کے پاس تقریباً 190 وارہیڈز ہونے کا اندازہ لگایا گیا ہے۔
یہ تخمینہ پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے جائزے سے بھی مطابقت رکھتا ہے۔
ادارے کے مطابق جنوری 2026 میں بھی بھارت کے پاس تقریباً 190 وارہیڈز تھے۔
یہ اعداد و شمار سالانہ عالمی جوہری ہتھیاروں کے جائزے کا حصہ ہیں۔
رپورٹ میں ہتھیاروں، تخفیف اسلحہ اور عالمی سلامتی کا جائزہ لیا جاتا ہے۔
تھنک ٹینک نے دستیاب معلومات سے یہ تخمینہ تیار کیا ہے۔
اس میں سرکاری اعداد و شمار اور سیٹلائٹ تصاویر بھی شامل ہیں۔
160 سے زائد وارہیڈز لانچرز کے لیے مختص
فیڈریشن کے مطابق 160 سے زائد وارہیڈز آپریشنل لانچرز کے لیے مختص ہیں۔
دیگر وارہیڈز نئے میزائل نظام کے لیے رکھے گئے ہیں۔
نیوکلیئر انفارمیشن پراجیکٹ کے ڈائریکٹر ہانس کرسٹینسن نے بھی یہ تخمینہ پیش کیا۔
انہوں نے ’انڈیا نیوکلیئر ویپنز 2026‘ کے عنوان سے مضمون لکھا۔
مضمون میں بھارت کی جوہری صلاحیت کا جائزہ پیش کیا گیا ہے۔
یہ تخمینہ جوہری صلاحیت رکھنے والے میزائلوں کی دستیاب معلومات پر مبنی ہے۔
بھارت کے جوہری نظام میں توسیع
رپورٹ کے مطابق بھارت اپنے جوہری ہتھیار جدید بنا رہا ہے۔
اس کے ساتھ جوہری صلاحیت رکھنے والے طیارے بھی تیار کیے جا رہے ہیں۔
زمین سے فائر ہونے والے میزائل نظام بھی ترقی پا رہے ہیں۔
سمندر سے فائر ہونے والے میزائل پلیٹ فارمز پر بھی کام جاری ہے۔
فیڈریشن کے مطابق بھارت کے پاس کافی مقدار میں ہتھیاروں کا پلوٹونیم موجود ہے۔
اس پلوٹونیم سے 140 سے 225 وارہیڈز تیار کیے جا سکتے ہیں۔
مستقبل میں جوہری ذخیرے میں اضافے کا امکان
رپورٹ میں بھارت کے جوہری ذخیرے میں مزید اضافے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
اس کی وجہ نئے جوہری نظام کی تیاری کو قرار دیا گیا ہے۔
انٹرنیشنل پینل آن فِسائل میٹیریلز کے مطابق بھی ایک اندازہ موجود ہے۔
اس تخمینے کے مطابق بھارت نے تقریباً 730 کلوگرام ہتھیاروں کے درجے کا پلوٹونیم تیار کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ مقدار 140 سے 225 وارہیڈز کے لیے کافی ہوسکتی ہے۔
جون میں پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ نے بھی جوہری پروگرام پر جائزہ جاری کیا تھا۔
ادارے نے بھارت کے نئے ترسیلی نظام کی تیاری کا ذکر کیا تھا۔
اس میں بیلسٹک میزائلوں پر متعدد وارہیڈز نصب کرنے کی صلاحیت بھی شامل ہے۔
