Table of Contents
انقرہ: نیٹو سربراہی اجلاس کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتحادی ممالک، خصوصاً اسپین، پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بعض ممالک دفاعی ذمہ داریاں پوری نہیں کر رہے، تاہم بعد میں اجلاس کے اختتام پر انہوں نے اتحاد میں "بہت زیادہ محبت اور یکجہتی” کا دعویٰ بھی کیا۔
ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اسپین کو نیٹو کا "کمزور شراکت دار” قرار دیا اور کہا کہ وہ امریکا اور اسپین کے درمیان تجارتی تعلقات محدود کرنے کے حق میں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسپین دفاعی اخراجات میں مطلوبہ کردار ادا نہیں کر رہا اور ایران کے خلاف امریکی مؤقف کی بھی حمایت نہیں کی۔
انہوں نے امریکی وزیر خزانہ کو اسپین کے ساتھ تجارتی معاملات کا جائزہ لینے کی ہدایت دینے کا بھی ذکر کیا، جبکہ اسپین کو نیٹو میں اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے پر زور دیا۔
اجلاس کے دوران ٹرمپ نے ایران کے ساتھ عبوری جنگ بندی معاہدے کو بھی مؤثر نہ ہونے کا عندیہ دیا، جس سے اجلاس میں کشیدگی کی فضا پیدا ہوئی۔
اجلاس کے بعد مؤقف میں نرمی
بند کمرے میں نیٹو رہنماؤں کے ساتھ ملاقاتوں کے بعد صدر ٹرمپ نے اپنے لہجے میں نرمی لاتے ہوئے کہا کہ اجلاس میں "بہت زیادہ اتحاد اور تعاون” دیکھنے کو ملا۔
انہوں نے یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی سے ملاقات کو بھی مثبت قرار دیا اور کہا کہ امریکا یوکرین کو پیٹریاٹ میزائل تیار کرنے کے لیے لائسنس فراہم کرنے پر غور کرے گا۔
نیٹو کا مشترکہ مؤقف
اجلاس کے اختتام پر نیٹو رہنماؤں نے مشترکہ اعلامیے میں اجتماعی دفاع کے اصول (آرٹیکل 5) سے اپنی مکمل وابستگی کا اعادہ کیا۔
یورپی اتحادیوں اور کینیڈا نے دفاعی اخراجات میں مزید اضافے اور دفاعی ذمہ داریوں میں بڑا کردار ادا کرنے کے عزم کا اظہار کیا، جبکہ نیٹو ارکان نے 2026 کے دوران یوکرین کے لیے تقریباً 70 ارب یورو کی فوجی امداد فراہم کرنے کا بھی اعلان کیا۔
اسپین کا ردعمل
اسپین کی حکومت نے امریکی صدر کے بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات باہمی مفاد پر مبنی ہیں اور اسپین اپنی خودمختاری اور آزاد خارجہ پالیسی پر قائم رہے گا۔
ہسپانوی وزیر صحت مونیکا گارسیا نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا کہ اسپین ایک خودمختار اور جمہوری ملک ہے اور سفارت کاری کو دباؤ یا دھونس سے نہیں چلایا جا سکتا۔
