Table of Contents
انقرہ: نیٹو کے رکن ممالک نے سربراہی اجلاس کے اختتام پر انقرہ اعلامیہ جاری کرتے ہوئے اتحاد، اجتماعی دفاع اور رکن ممالک کی سلامتی کے لیے اپنے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ نیٹو کے تمام اتحادی واشنگٹن معاہدے کے آرٹیکل 5 پر مکمل طور پر قائم ہیں، جس کے تحت کسی ایک رکن پر حملہ تمام رکن ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
اعلامیے کے مطابق اتحاد، یکجہتی اور مشترکہ دفاع کو نیٹو کے ایک ارب سے زائد شہریوں کے امن، سلامتی اور خوشحالی کی بنیاد قرار دیا گیا ہے۔
روس اور دہشت گردی پر مؤقف
نیٹو رہنماؤں نے روس کو یورو-اٹلانٹک خطے کی سلامتی کے لیے طویل المدتی خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی بھی بدستور عالمی سلامتی کے لیے ایک مستقل چیلنج بنی ہوئی ہے۔
اعلامیے میں بتایا گیا کہ یورپی اتحادیوں اور کینیڈا نے گزشتہ برس دفاعی ضروریات پر 139 ارب ڈالر سے زائد اضافی سرمایہ کاری کی، جبکہ اجلاس کے دوران 50 ارب ڈالر سے زائد کے نئے دفاعی منصوبوں کا بھی اعلان کیا گیا۔
دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ
نیٹو نے دفاعی صنعت کو مضبوط بنانے، جدید ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری، مصنوعی ذہانت، سائبر سکیورٹی، خلائی صلاحیتوں، میزائل دفاع، انٹیلی جنس نظام اور جدید جنگی ٹیکنالوجیز کی ترقی کو ترجیح دینے کے عزم کا اظہار کیا۔
رہنماؤں نے دفاعی تجارت میں رکاوٹیں کم کرنے اور مشترکہ دفاعی پیداوار بڑھانے پر بھی اتفاق کیا۔
یوکرین کی حمایت جاری رکھنے کا اعلان
اعلامیے میں یوکرین کی آزادی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا گیا کہ اتحادی ممالک 2026 کے دوران فوجی سازوسامان، تربیت اور دیگر امداد کی مد میں 70 ارب یورو (تقریباً 80 ارب امریکی ڈالر) فراہم کریں گے۔
نیٹو نے یورپی یونین کی جانب سے یوکرین کے لیے جاری مالی امداد اور قرض پروگرام کا بھی خیر مقدم کیا۔
ایران اور آبنائے ہرمز
نیٹو اعلامیے میں کہا گیا کہ ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے چاہئیں، جبکہ تہران سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی جہاز رانی کی آزادی اور عالمی بحری قوانین کا مکمل احترام کرے۔
اجلاس کے اختتام پر نیٹو رہنماؤں نے کامیاب سربراہی اجلاس کے انعقاد پر ترکیہ کی حکومت کا شکریہ بھی ادا کیا۔
